حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 489
کلمہؑ توحید پر ایمان رکھتا ہو اور پھر خلقت کے ساتھ ایسی محبت کرے جیسی کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ کرنی چاہیئے۔پس مومن اس کلمہ کو اپنے پاس رکھ کر اور اس پر ایمان لا کر نہ غیر اﷲ سے کوئی امید رکھتا ہے اور نہ غیراﷲ سے اس کو کچھ خوف باقی رہ جاتا ہے۔پس مومن کبھی یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا کہ اﷲ تعالیٰ کے سوائے کسی دوسرے کو علم تام ہے یا کسی اور کے ہاتھ میں تنصَرُّفِ تام ہے۔یا اﷲ تعالیٰ کے سوائے کوئی کسی قِسم کی بھی عبادت کے لائق ہے۔چہ جائیکہ کسی غیر کے آگے سجدہ کیا جاوے یا اس کے واسطے حج کیا جاوے یا اس کے لئے قربانی کی جائے۔پس مومن اﷲ کے سوائے کسی سے استغفار نہیں کرتا اور اس کے سوائے کسی کے آگے اپنے گناہوں سے توبہ نہیں کرتا۔اور مومن کبھی ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتا کہ کوئی اﷲ کی خلق کی طرح کسی چیز کا خلق کر سکتا ہے یا اﷲ کے مارنے اور جلانے کی طرح کوئی کسی کو مار یا جلا سکتا ہے۔غرض مومن خالق اور مخلوق کو کبھی برابر نہیں ٹھہراتا۔اور خیرِ کثیر میں یہ بات بھی شامل ہے جو آنحضرت ؐ کو عطا کی ہے کہ آپ نے ( صلی اﷲ علیہ وسلم) تمام مقربانِ الہٰی کا دامن ان تہمتوں اور افتراؤں سے پاک کیا جو کہ ان پر ان کے مخالف یا موافق لگاتے تھے۔یہود کی طرف دیکھو کہ مریم صدیقہ کی نسبت کیا الفاظ بولتے ہیں۔خود قرآن شریف سے ظاہر ہے جس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے مریم پر برا بہتان باندھنے کا کفر کیا اور ایسا ہی یہود نے حضرت عیسٰی ؑ پر بھی اتہام باندھے تھے۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔کہ میں کفّار کی باتوں سے تیری تطہیر کرنیوالا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔اور ایسا ہی ان کا اور عیسائیوں کا قول حصرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے حق میں تہمت اور افتراء کا تھا اور خدا تعالیٰ نے ہر دو کا دامن اپنی پاک کتاب میں پاک کیا اور داؤد کو اپنا بندہ فرمایا اور سلیمان کے حق میں فرمایا کہ اس نے کوئی کفر نہیں کیا تھا۔(اخبار بدر قادیان ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۷۔۸)ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍اکتوبر ۱۹۱۲ء) اور خیرِ کثیر میں سے وہ وعدہ ہے جو اﷲ جلشانہ، نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی نصرت کا وعدہ عطا کیا تھا۔جیسا کہ کدا تعالیٰ کے قولِ پاک میں ہے۔اے نبی تجھے اور تیری پیروی کرنیوالے کے مومنوں کو اﷲ تعالیف کافی ہے۔اور اﷲ تعالیٰ نے اپنے اس رسول کو حفاظت کا وعدہ فرمایا۔جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔اور اﷲ تعالیٰ تجھے لوگوں کے سر سے بچائے گا۔اور خیر کثیر میں وہ عزّت کا وعدہ جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ اور اس کی امّت کے مومنوں کو عطا کیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ عزّت اﷲ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لئے ہے اور خیرِ کثیر میں وہ عطا الہٰی ہے۔جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہوئی کہ خدا نے آنحضرت ؐ کو یتیم پایا اور آپؐ کی پرورش کی اور آپؐ کو سائل پایا تو آپ ؐ کو ہدایتدی اور آپ کو فقیر پایا