حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 488
اس خیرِ کثیر میں سے ایک یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ سبحانہ، کے اسمائے حسنٰی جس قدر قرآن شریف میں ہیں اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الہٰی بتلائے گئے ہیں۔ان کی مثال کسی آسمانی کتاب میں نہیں پائی جاتی اور اسی خیرِکثیر میں سے وہ محامدِ الہی ہیں جو دینِ اسلام کے ذریعہ سے دنیا پر پھیلائے جا رہے ہیں۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ کس طرح سے مسلمان آوازِ بلند کے ساتھ بلند میناروں اور اونچی جگہوں پر چڑھ کر اﷲ تعالیٰ کی بڑائی کرتے ہیں اور اﷲ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں۔کیا اﷲ اکبر سے بڑھ کر کوئی برا لفظ خدا تعالیٰ کی کبریائی کے واسطے تمہیں معلوم ہے۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اسلام میں اﷲ تعالیٰ کی تعریف اور تسبیح سے بھری ہوئی کس قدر دُعائیں ہر ایک موقعہ پر کی جاتی ہیں۔کھانے کے وقت کی دُعائیں اور پینے کے وقت کی دُعائیں اور سو کر اٹھنے کے وقت کی دُعائیں اور مسجد میں داخل ہونے کی دُعا اور مسجد سے نکلتے وقت کی دُعا اور کھڑا ہونے کے وقت کی دعا اور بیٹھنے کے وقت کی دُعا اور بازار کو جانے کی دُعا اور بازار سے لَوٹنے کی دُعا اور ایسا ہی سفر کی دعائیں اور حضر کی دعائیں اور دُکھ درد کے وقت کی دعائیں اور جنگ کے وقت کی دعائیں اور چارپائی پر لیٹنے کے وقت کی دُعائیں اور حاجت کے وقت کی دُعا اور تکلیف اور غم اور حزن اور فتنوں کے وقت کی دعائیں۔غرض اسلام میں ہر وقت انسان اپنے ربّ کی حمد اور تسبیح میں مصروف ہے۔اور کسی وقت بھی اس کی تعریف سے غافل نہیں۔یہ ایک خیرِکثیر ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہی عطا ہوئی ہے۔پھر دیکھو کہ اسلامی لٹریچر میں ہر ایک کتاب کا ابتداء اور انتہاء اور اﷲ تعالیٰ کی حمد اور تعریف سے ہوتا ہے۔اور ہر ایک خطبہ اور ہر ایک رسالہ خدا کے نام کی تعریف سے شروع کیا جاتا ہے اور خدا کی تعریف کے ساتھ ہی ختم کیا جاتا ہے اور یہ بھی کوثر کا نتیجہ ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اﷲ تعالیٰ کے لئے ہے۔جو ربّ العٰلمین ہے اور یہ خیرِ کثیر میں سے ہے کہ اسلام میں اس کثرت کے ساتھ توحید کا وعظ کیا جاتا ہے۔اور شرک کی نفی پر تقریریں کی جاتی ہیں۔کیا تُو نے ایسا کوئی بیان کسی کتاب یا کسی دیوان میں دیکھا ہے۔پھر کلمۂ توحید کو دیکھو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کوئی معبود قابلِ پرستش اﷲ کے سوائے نہیں۔کیا اس کلمہ کے بعد کسی مومن کے دل میں کوئی شرک باقی رہ جاتا ہے۔کیا اس کی نیت اور قصد کے درمیان کوئی ایسی بات رہ جاتی ہے۔کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے سوائے کسی دوسرے کو پکارے اور اس کے حکم کے سوائے کسی دوسرے کی اطاعت پر قدم مارے۔اور اس کے سوائے کسی دوسرے کو اپنا رب بنائے۔خواہ کوئی اور کیسا ہی عالم فاضل ہو اور راہب ہو۔کیا وہ اپنے ربّ کو چھوڑ کر اور ان کے پیچھے پر کر معصیت میں گر سکتا ہے۔کیا ممکن ہے کہ کوئی شخص اس کل