حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 476
یہ بھی حکمتِ الہٰی ہے کہ انجیل اور توریت کی طرح قران شریف میں ہر آیت کے ساتھ اس کا شانِ نزول درج نہیں۔ابتداء سے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قرآن شریف کے درمیان کبھی شانِ نزول یا مقامِ نزول ساتھ ساتھ نہیں لکھائے۔جیسا کہ توریت انجیل میں اور دیگر صحفِ انبیاء میں آتا ہے کہ حضرت موسٰی یا عیسٰی یا کوئی اور نبی پھر اس مقام پر گیا اور اس آدمی کو ملا اور اس وقت پر اس پر یہ وحی نازل ہوئی یا خود اس نے یہ کلام کیا۔برخلاف اس کے قرآن شریف اوّل سے خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور ایک سمندر کی طرح اس کی روانی ہے جس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔بشر کے کلام کا اس میں کوئی حصّہ نہیں اور چونکہ یہ کلام کسی خاص مکان کے واسطے تھا اور نہ کسی خاص قوم کے واسطے جیسا کہ توریت انجیل وغیرہ دیگر کتب سماوی ہیں۔اس واسطے اس میں شانِ نزول ساتھ ساتھ نہ لکھے گئے۔بلکہ خدا تعالیٰ نے یہی چاہا۔کہ اس بات کی حفاظت بھی پورے طور سے نہ ہوئی کہ یہ آیتیں کب اور کس کے حق میں اوّل نازل ہوئی تھیں یہاں تک کہ ترتیبِ نزولی بھی خدا تعالیٰ نے قائم نہ رہنے دی قرآن شریف کی ترتیب اور اس کے درمیان شانِ نزول اور مقامِ نزول کا نہ لکھا جانا خود اس بات کی ایک بڑی بھاری دلیل ہے کہ یہ کتاب برخلاف دیگر کتبِ سماوی کے تمام زمین کے واسطے اور قیامت تک سب زمانوں کے واسطے اور سب قوموں کے واسطے خدا تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔سورۃ ایلاف میں اﷲ تعالیٰ نے قریش کو اپنے انعام یاد دلائے ہیں۔اس کے بعد ان کو یہ سمجھایا گیا کہ جب خدا تعالیٰ کے اس قدر فضل تم پر ہوئے ہیں تو اب تمہیں چاہیئے کہ ان رزائل اور بدیوں سے بچو۔جن سے خدا ناراض ہوتا ہے۔اور جن کا ذکر اس سورۃ ماعون میں کیا گیا ہے۔۱؎ ۲۔۔: آیا دِیدِی؟ کیا دیکھا تُو نے؟ اس میں بطاہر استفہام ہے اور دراصل ۱؎ ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍اکتوبر ۱۹۱۲ء مطلب تعجب سے ہے کہ کیا ایسے شخص کو بھی تم نے دیکھا ہے۔اس قسم کے طرزِ کلام میں ایک زور اور کوبصورتی ہے۔: جو کہ۔وہ جو۔جو شخص کہ : جھٹلاتا ہے۔تکذیب کرتا ہے۔: جزا و سزا کو کہتا ہے کہ نیکی پر انعام یا بدی پر سزا فرضی باتیں ہیں۔اس دنیا میں