حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 474

وَیْلٌ: اس وادی کا نام ہے جو دوزخیوں کی پیپ سے بہ کر نکلے لگی۔سَاھُوْنَ کے لفظ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔جو نمازوں کے اوقات میںتاخیر کرتے ہیں اور ابن عباس اور مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سَاھُوْنَ سے وہ لوگ مراد ہیں جو نماز کے تارک ہیں اور وہ منافق ہیں۔اسی سبب سے کہا گیا کہ یہ سورۃ مکّی ہے۔اور نصف مدنی ہے۔اور سَاہَ کے معنے ہیں سہو کیا۔ریا کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اپنے اچھے عمل لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں۔مَاعُوْن منفعت کو کہتے ہیں۔پس اس پانی سے منع کرنا جو بادلوں سے آتا ہے۔ماعون ہے عبدالراعی نے ایک شعر میں کہا ہے۔قَوْمٌ عَلَی الْاِسْلَامِ لَمَّا یُمْنَعُوْا مَاعُوْنَھُمْ وَّ یُضَیَّعُوا التَّھْلِیْلَا وہ قوم جو اسلام پر ہے۔انہوں نے کبھی ماعون سے منع نہیں کیا اور نہ کبھی کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ کو ضائع کیا ہے۔یہاں مَاعُوْن سے مراد اطاعت اور زکوٰۃ ہے۔اور حضرت علیؓ نے فرمایا ہے کہ ماعون سے مراد زکوٰۃ ہے اور صدقہ مفروضہ ہے۔یہ ابن مسعود اور ابن عمر کی روایت ہے۔اور ماعون ایسی متاع کو بھی کہتے ہیں جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مانگنے پر دیتے ہیں۔جیسا کہ دیگچی اور ڈول اور کلہاڑی اور ایسی اشیاء۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰۔اکتوبر ۱۹۱۲ء) اس سورۃ کو اس کے پہلے لفط کے لحاظ سے سورۃ اَرَأَیْتَ بھی کہتے ہیں جیسا کہ اَور بھی بعض سورتوں کا نام ان کے پہلے الفاظ کے لحاظ سے ہیں۔مثلاً۔والصّٰفٰتِ۔الرَّحْمٰن۔النَّجم الطُّور وغیرہ۔دوسرا نام اس سورہ شریف کا اَلدِّیْن ہے کیونکہ اس میں جزا و سزا کے ضروری اور اہم مسئلہ کی تکذیب کرنے والے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر ہے۔تیسرا نام اس سورۃ شریف کا سورۃالمَاعُوْن ہے اور زیادہ تر مشہور یہی نام ہے۔مَاعُوْن کے معنے مفصّل آگے بیان ہوتے ہیں۔انشاء اﷲ تعالیٰ چوتھا نام اس سورۃ کا سورۃ الیتیم ہے۔کیونکہ اس میں یتیم کے ساتھ محبت کرنے اور اس پر دستب سفقت رکھنے کی طرف خاص طور پر ترغیب دی گئی ہے۔