حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 468
: ان کو اُلفت دلانے کے لئے : سردی اور گرمی کے سفر میں۔قریش تجارت کے واسطے ہر سال دو سفر کرتے تھے۔موسم سرما میں افریقہ۔ہند و یمن کی طرف جاتے تھے۔اور موسم گرما میں شام، ایران کی طرف جاتے تھے۔ہر دو طرف کے لوگ ان کی بہت ہی عزّت اور تکریم کرتے تھے۔اور ہدیے اور تحفے دیتے تھے۔اگر خدا نخواستہ اصحاب الفیل کو فتح ہو جاتی تو ان کی یہ تمام عزّت جاتی رہتی۔اور امن اُٹھ جاتا۔لیکن اصحاب الفیل کو تباہ کر کے اﷲ تعالیف نے ان کی عزّت کو اور بھی بڑھایا۔اور پہلے سے بھی زیادہ لوگ قریس کی تعظیم کرنے لگے۔اور وہ سفر ان کے واسطے اور بھی زیادہ آسان اور بابرکت ہو گئے۔: پس چاہیئے کہ عبادت کریں۔: اس گھر کے پروردگار کی۔: جس نے۔: ان کو کھانا کھلایا۔مِنْ جُوْعٍ : بھوک سے۔: اور ان کو امن دیا۔مِنْ خَوْفٍ: خوف سے۔بعض جاہل آریہ اور عیسائی اعتراص کرتے ہیں کہ مسلمان چونکہ عبادت کے وقت خانہ کعبہ کی طرف منہ کرتے ہیں اس واسطے یہ بھی ایک شرک ہے۔اور اس گھر کی عبادت کی جاتی ہے۔اس سورۃ شریف میں اﷲ تعالیٰ نے اس بات کا ردّ کر دیا ہے۔۔عبادات اس گھر کے ربّ کی کی جاتی ہے۔نہ کہ اس گھر کی۔اور یہ گھر بطور ایک نشان کے ہے۔جو خدا تعالیٰ کی برتر اور قادر اور عالم الڈیب ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔کیونکہ دنیا میں برے بڑے گھر لوگوں نے بنائے۔اور بری بڑی قومیں ان کی امداد کے لئے کھڑی ہوئیں لیکن وہ تباہ ہو گئے۔اور ان کا نام و نشان مت گیا۔اور یہ گھر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق قائم ہے۔اور اس کے ارد گرد رہنے والے ہر طرح کے خطرات سے محفوظ ہیں۔عبادت کے وقت آخر کسی نہ کسی طرف تو انسان منہ کرتا ہے۔وحدت کے واسطے سب نے ایک طرف منہ کی اور ایک ایسی طرف منہ کیا جس طرف سے خدا تعالیٰ کا پاک کلام اُن تک پہنچا۔اور اُن کے واسطے موجبِ ہدایت ہوا علاوہ اس کے اس میں ایک اور حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ زمین کے گول ہونے کے سبب دن رات