حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 455
کے لئے بابرکت ہو خدا تعالیٰ کی کتاب میں میرے خیال میں اس کے سوا اور نہیں آئی۔قرآن کریم کے ہر فقرہ سے اﷲ تعالیٰ کے فضل اور محض فضل سے سارے جہان کی تعلیم و تربیت اور پاک تعلیم و تربیت حاصل اور صرور حاصل ہو سکتی ہے۔مگر صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی عادت تھی کہ جب آپ میں ملتے تو اس سورۃ کو پڑھ لیتے تھے۔ممکن ہے کہ میری آواز نہیں پہنچ سکتی ان کے کانوں میں وہ لوگ جو سنتے ہیں وہ اس شکریہ میں دوسروں تک پہنچائیں یہ بڑی مختصر سورۃ ہے۔پہلی بات اس سورہ شریفہ میں یہ ہے۔کہ وَلْعَصْرِعصرایک زمانہ کو کہتے ہیں۔ہرآن میں پہلا زمانہ فنا اور ناپید ہوتا جاتا ہے۔ہر وقت زمانہ کو فنا لگی ہوئی ہے۔کل کا دن ۲۶۔دسمبر ۱۹۱۲ء اب کبھی نہیں آئے گا۔۲۷۔دسمبر ۱۹۱۲ء آج کے بعد کبھی دنیا میں نہ آئے گا۔آج کی صبح اب کبھی نہ آئے گی۔یہ زمانہ بڑا بابرکت زمانہ ہے۔یہ جو آریہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ زمانہ مخلوق نہیں اور جو قدیم ہے وہ فنا نہیں ہوتا۔وَلْعَصْرِکالفظ ان کے لئے خود ردّ ہے۔میں جس زمانہ میں بولا۔وہ اب چلا بھی گیا۔اور جس میں آگے بولوں گا۔وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا۔زمانہ کوغیر مخلوق ماننے والوں کے لئے کیا عمدہ ردّ ہے۔زمانہ کو جہاں تل لے جائیں۔ایک حصقہ مرتا جاتا ہے۔ایک حصّہ پیدا ہوتا جاتا ہے۔اس مرنے اور پیدا ہونے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ایک فائدہ عصر میں یہ ہے۔کہ ہر ایک وقت جو انسان پر گزرتا ہے اس کو فنا لازم ہے۔اس طرح انسان کے اجزاء بھی ہر ان میں فنا ہوتے ہیں اور ہرآن نئے اجزاء پید اہوتے ہیں۔اسی طرح ایک نئی مخلوق بن کر انسان اﷲ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔جب میں جوان تھا تو میرے سارے بال سیاہ تھے۔آج کوئی بال سیاہ نہیں۔جب ہم نئی حالت میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔تو ہر وقت اﷲ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔مجھ میں بینائی کی قوّت ہے۔اگر بینائی رُک جائے تو کیا کیا جائے۔عرص کہ ہرآن اﷲ تعالیف کے محتاج ہیں۔لَآاِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے معنے ہیں کہ ہرآن میں تم ہمارے محتاج ہو۔اگر میرا فضل و کرم نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ایک بات عصر میں یہ ہے کہ لوگ زمانہ کو بُرا کہتے ہیں۔شاعروں نے تو یہ غضب کیا کہ دنیا کا ہر ایک دُکھ اور مصیبت زمانہ کے سرتھوپ دیا۔خدا تعالیٰ کا نام ہی درمیان سے نکال دیا۔گردشِ روزگار کی اس قدر شکایت کی ہے۔جس کی حد نہیں۔گویا ان کا دارومدار۔ان کا نافع اور ضآرّ سب کچھ زمانہ ہی ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔زمانہ کی شکایت نہ کرو۔یہ بھی قابلِ قدر چیز ہے۔عصر کے بعد کوئی وقت نہیں ہوتا۔جو ہم