حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 454 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 454

ہمیشہ حامی رہے۔آپؐ نے طوائف الملوکی میم جو مکّہ معظمہ میں تھی اور عیسائی سلطنت کے تحت جو حبشہ میں تھی۔ہم کو یہ تعلیم دی کہ غیر مسلم سلطنت کے ماتحت کس طرح زندگی بسر کرنی جاہیئے۔اس زندگی کے فرائض سے ’’ امن‘‘ ہے۔اگر امن نہ ہو تو کسی طرح کا کوئی کام دین و دنیا کا ہم عمدگی سے انہیں کر سکتے۔اس واسطے میں تاکید کرتا ہوں کہ امن بڑھانے کی کوشش کرو۔اور امن کے لئے طاقت کی ضرورت ہے۔وہ گورنمنٹ کے پاس ہے۔مَيں خوشامد سے نہیں بلکہ حق پہنچانے کی نیت سے کہتا ہوں کہ تم امن پسند جماعت بنو تا تمہاری ترقی ہو۔اور تم چین سے زندگی بسر کرو۔اس کا بدلہ مخلوق سے مت مانگو۔اﷲ سے اس کا بدلہ مانگو۔اور یاد رکھو کہ بلا امن کوئی مذہب نہیں پھیلتا اور نہ پھُول سکتا ہے۔میں اس کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ حضرت صاحب کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے۔کہ گورنمنٹ کے اس احسان کے بدلہ میں ہم اگر امن کے قائم کرنے کیں کوشش کریں تو اﷲ تعالیف اس کا نتیجہ ہم کو ضرور دے گا اور اگر ہم خلاف ورزی کریں تو اس کے بد نیتجے کا منتظر رہنا پڑے گا۔دوسری بات جو سمجھاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ باہم محبت پڑھاؤ۔اور بغضوں کو دُور کر دو۔اور یہ محبت بڑھ نہیں سکتی جب تک کسی قدر تم صبر سے کام نہ لو۔اور یاد رکھو۔صبر والے کے ساتھ خدا خود آپ ہوتا ہے۔اس وسطے صبر کنندہ کو کوئی آلّت و تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔تیسری بات جو میں کہنی ضروری سمجھتا ہوں۔وہ یہ ہے۔کہ حضرت صاحب نے ’’ فتح اسلام‘‘ میں پانچ شاخوں کا ذکر کیا ہے۔اور ان پانچ شاخوں میں چندہ دینے کی تاکیدکی۔مثلاً آپ کی تصانیف کی اشاعت اشتہارات کی اشاعت۔آپ کے لنگرخانہ کو بلند کرنے کی تاکید اور مہمان خانہ کی ترقی کی طرف توجّہ اور آمدو رفت پر بعض وقت جو خرچ پڑتے ہیں۔ان کے لئے مکان بنانے پڑتے ہیں۔ان میں انفاق کرنے کی تاکید آپ نے فرمائی ہے۔مَیں اس تاکید پر تاکید کرتا ہوں۔کہ ہمارا مہمان خانہ کسی قدر آپ لوگوں کی سُستی کا مظہر ہے۔مَیں جس طرح دیکھتا ہوں کہ ایک مدرسہ چلتا ہے۔لنگر اور دینی مدرسہ بہت کمزور رنگ میں ہے۔ہمارے بھائیوں کو چاہیئے کہ ان دونوں امور کی طرف بہت کوشش کریں اور انفاق سے کام لیں … میں یہ باتیں اس لئے بتاتا ہوں کہ تم کو دین اور دنیا دونوں کا وعظ کروں۔یہ نہیں کہ مجھے دنیا کی غرض ہے۔کیونکہ میری عمر کا بہت برا حصہ اﷲ کے فضل سے گزرا ہے۔یہ تھوڑے دن جو باتی ہیں۔میں مخلوق سے سوال کرنے میں اپنی ہمّت کو ضائع نہیں کرتا۔( بدر ۳۱۔مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۴۔۵) یہ سورۃ ( وَلْعَصْرِ) میں نے بارہا لوگوں کو سنائی ہے چھوٹی سے چھوٹی سورت جو ہر شخص کے