حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 429
ہنگم جس کا کوئی سر پیر نہیں۔نہ اختلاف کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔نہ اصل بات سمجھ میں آسکتی ہے۔ہمارے بھائیوں ( احمدیوں ) کو چاہیئے کہ وہ امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔دین کو دنیا پر مقدّم کروں گا۔پس وہ دنیا میں ایسے منہمک نہ ہوں کہ خدا کو بھول جائیں۔پھر فرمایا کہ جھوٹے قصّے اپنے وعظوں میں ہرگز روایت نہ کرو۔نہ سنو۔مخلوق الہٰی کو قرآن مجید سناؤ۔ہدایت کے لئے کافی ہے۔سلیمان کی انگشتری اور بھٹیاری کا بھٹ جھونکنے کا قصّہ بالکل لغو اور جھوٹ ہے۔اگر ایک پتھر میں جو جمادات سے ہے اتنا کمال ہے تو کیا ایک برگزیدہ انسان میں جو اشرف المخلوقات ہے۔یہ کمال نہیں ہو سکتا۔انبیاء ذات میں کمال ہوتے ہیں۔اِسی واسطے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: (انعام: ۱۲۵) پس تم خوب یاد رکھو کہ انبیاء دنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہوتے۔جیسا کہ سلیمانؑ کی نسبت شیاطین نے دنیا میں مشہور کیا۔اگر دنیا میں کوئی کسی کی سکل بن سکتا۔تو امان ہی اُٹھ جائے۔مثلاً ایک نبی وعط کرنے لگے۔اب کسی کو کیا معلوم کہ یہ نبی ہے۔یا نعوذ باﷲ کوئی بُرا آدمی ہے۔خدا نے ایسی باتوں کا ردّ فرمایا ہے۔کہ (بقرہ: ۱۰۳) تم ایسی باتوں سے توبہ کر لو۔اگر کوئی ایسا وعظ سنائے تو صاف کہہ دو کہ انبیاء کی ذاتِ جامع کمالات ایسے افتراؤں سے پاک ہے۔(بدر ۲۷؍جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ۲) ۴۔۔لیلۃ القدر کے اگر صرف اسی قدر معنے ہوتے کہ رمضان شریف کے آخری دھاکہ میںطاق راتوں میں سے ایک رات لیلۃ القدر ہے، ویس۔اس کے علاوہ اور کوئی مطلب نہیں۔تو اس صورت میں بارہ مہینے ہی بجائے ہزار مہینے کے کافی تھے۔کیونکہ دوسرے رمضان شریف میں تو لیلۃ القدر پھر دوبارہ بالیقین موجود ہے۔پھر اس سے آگے اور آئندہ رمضان شریف فَھَلُمَّ جَرًّا۔ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ کسی سال تو رمضان شریف میں لیلۃ القدر ہوتی ہے اور کسی سال نہیں ہوتی بلکہ بالیقین رمضان شریف میں ہر سال کسی نہ کسی طاق رات میں لیلۃ القدر ضرور ہوتی ہے۔خواہ ستائیسویں کو ہو یا اکیسویں کو مگر پہلی آیت میں اس قرآن شریف کے جیسا کہ بیان ہوا ہے۔اَنْزَلْنٰہُ کا مرجع منزّل علیہ القرآن بھی ہے اور ایک انور مقام میں بھی اﷲ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآن شریف دونوں کو ایک ساتھ نازل شدہ فرمایا ہے جیسا کہ فرمایا