حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 428 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 428

میں بھی شہر اور فجر کی طرح قدر کی دال متحرک نہیں ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍ اگست ۱۹۱۲ء) حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس وقت ان کی بعثت کی بڑی ضرورت تھی۔لوگ نہ اسماء الہٰیہ کو جانتے تھے نہ صفات الہٰیہ کو۔نہ افعال سے آگاہ تھے، نہ جزاء و سزا کے مسئلہ کو مانتے تھے۔انسان کی بدبختی اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے مالک، اپنے خالق کے نہ اسماء کو جانے، نہ صفات کو۔غرض لوگ اس کی رصا مندی سے آگاہ تھے ، نہ اس کے غضب سے۔ایسا ہی انسانی حقوق سے بے خبر سب سے بڑا مسئلہ جو انسان کو نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔وہ جزا و سزا کا مسئلہ ہے۔اگر شریف الطبع انسان کو یہ معلوم ہو کہ اس کام کے کرنے سے میری ھتک ہو گی یا مجھے نقصان پہنچے گا تو وہ کبھی اس کے قریب نہیں پھٹکتا۔بلکہ ہر فعل میں نگرانی کرتا ہے۔مختلف طبائع کے لوگ اپنے مالک کے اسماء۔صفات کے علم اور جزاء و سزا کے مسئلہ پر یقین کرنے سے نیکیوں کی طرف توجہ کرتے اور بدافعالیوں سے رکتے ہیں۔چنانچہ ملک عرب میں شراب کثرت سے پی جاتی اور اَلْخَمْرُجَمَاعُ الْاِثْمِ صحیح بات ہے۔پھر فرمایا اَلنِْسَائُ حَبَائِلُ الشَّیْطَانِ۔سومؔ۔ملک میں کوئی قانون نہیں تھا۔ایسا اندھیر پڑا ہوا تھا۔جن سعادتمندوں نے نبی کریمؐ کے ارشاد پر عمل کیا۔وہ پہلے بے خانماں تھے۔پھر بادشاہ ہو گئے۔خشن پوس تھے حریر پوش بن گئے۔نہ مفتوح تھے نہ فاتح۔مگر اس اطاعت کی بدولت دنیا میں فاتہ قوموں کے امام خلفاء راشدین اور اعلیٰ مرتبت سلاطین کہلائے۔یہ سب اس کتاب کی برکت تھی جسے اﷲ نے ایسی اندھیری رات میں جسے لَیْلَۃم الْقَدْرِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔اپنے بندے پر نازل کیا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ایسے ہی حالات میں ہم میں ایک مجدّد کو بھیجا۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں شرک کا زور تھا۔سو اس کی تدبیر میں آپؐ نے پوری کوشس کی۔قرآن مجید کا کوئی رکوع شرک کی تردید سے خالی نہیں۔اِس زمانہ کے لوگوں میں یہ مرض عام ہے کہ دنیا پرستی غالب ہے۔دین کی پرواہ نہیں۔اس لئے آپؑ نے بیعت میں یہ عہد لینا شروع کیا کہ میں دین کو دنیا پر مقدّم کروں گا۔کیونکہ دنیا پرستی کا یہ حال ہے جیسے کہ چوہڑے کا چُھرا حلال و حرام جانور دونوں پر یکساں چلتا ہے۔اسی طرح لوگوں کی فکر اور عقل حرام حلال کمائی کے حصول پر ہر وقت لگی رہتی ہے۔فریب سے مِلے۔دَغا سے ملے۔چوری سے ملے۔سینہ زوری سے ملے۔کسی طرح روپیہ ملے سہی۔ملازم ایک دوسرے سے تنخواہ کا سوال نہیں کرتے۔بلکہ پوچھتے ہیں بالائی آمدنی کیا ہے۔گویا اصل تنخواہ آمد میں داخل نہیں۔مسلمانوں پر ایک تو وہ وقت تھا۔کہ اپنی ولادت۔موت تک کی تاریخیں یاد اور لکھنے کا رواج تھا اب یہ حال ہے کہ لین دین شراکت تجارت ہے مگر تحریر کوئی نہیں۔اگر کوئی تحریر ہے۔تو ایسی بے ہنگم