حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 38
تو پہلے ہمیں ان کتابوں کا ملنا مشکل اور پھر ان زبانوں کا سیکھنا مشکل اور پھر ان کو ایک زبان میں کرنا مشکل۔پھر اس کی تفسیر کون کرتا۔قرآن کریم نے دعوٰی کیا ہے۔ (البیّنۃ:۴)جو کتاب دنیا میں آئی اور جو اس میں نصیحتیں ہیں۔ان تمام کا جامع قرآن ہے۔باوجود اس جامع ہونے کے ایک ایسی زبان میں ہے جو ہر ایک ملک میں بولی جاتی ہے۔قرآن کریم میں تین خوبیاں ہیں۔پہلی کتابوں کی غلطیوں کو الگ کر کے ان کے مفید حصّہ کو عمدہ طور پر پیش کیا ہے۔اور جو ضروریات موجودہ زمانہ کی تھیں ان کو اعلیٰ رنگ میں پیش کیا۔اس کے سوا جتنے مضامین ہیں اﷲ کی ہستی، قیامت، ملائکہ، کتب، جزا سزا، اخلاق میں جو پیچیدہ مسئلے ہیں ان کو بیان کیا۔(الفضل ۱۰؍دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵) ۴۵،۴۶۔۔ ۔کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بدلہ لینے والی جماعتیں ہیں۔عنقریب یہ سب لوگ شکست دیئے جائیں گے اور بھاگ نکلیں گے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۹۶) نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بے یارو غمگسار اور پھر آپؐ نے ارشاد الہٰی کی تعمیل میں دعوٰی نبوّت کیا اور تمام مشرکانِ عرب کو کھول کھول کر سنا دیا گیا۔مگر یہ تمہارے بُت کسی کام کے نہیں۔پرستش کے لائق صرف ایک ذات جامع صفات ہے۔جس کا نام۔اﷲ۔تو چاروں صرف سے بڑے بڑے لوگ مخالفت کے لئے اٹھے اور ناخنوں تک زور لگایا۔آپ ایک یتیم بے سروسامان مقابلہ میں بڑے بڑے عمائد، بڑے بڑے اراکین اور دولتمند لیکن آخر کا الہام صداقت نشان پورا ہوا۔اور ان کو نیچا دیکھنا پڑا۔جس قدر لائق فائق لوگ تھے۔وہ سب کے سب آپ کی غلامی میں آ گئے۔حضرت ابوبکرؓ۔حضرت عمرؓ۔حضرت عثمانؓ ایسے علمِ سیاست جاننے والے خالدؓبن ولید۔ابوعبیدہؓ ایسے سپہ سالار سب آپؓ ہی کے حلقہ بگوش تھے۔یہ تو سب نے اس وقت دیکھ لیا۔پھر بعد میں جو اﷲ نے اپنے دین کی نصرت فرمائی۔جس طرح پر مصر و شام و ایران ہندو سندھ پر فتح حاصل ہوئی وہ کچھ ایسا نظارہ نہیں کہ بھول جانے والا ہو اور اس شان و شوکت۔رعب و سطوت اور حیرت ناک تغیّرو تبدّل کو دیکھ کر اور اس کے ساتھ ان مکّی پیشگوئیوں کو پڑھ کر جو