حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 36
موجودہ امور گزشتہ امور کے نتائج ہوتے ہیں اور مستقبل حال کا ثمرہ۔یہ سلسلہ ماضی کی طرف اگرچہ ان لوگوں کے نزدیک جو الہٰی ہستی سے بے خبر ہیں لامنتہٰی ہے مگر خدا کے ماننے والے جانتے ہیں کہ بات یہی سچ ہے۔ یعنی سب چیزوں کا منتہٰی اور انجام تیرے رب کی طرف ہے۔زمانہ بھی آخر مخلوق ہے۔کیونکہ زمانہ مقدارِ فعل کا نام ہے۔مقدار فعل، فعل سے پیدا ہو سکتا ہے اور فعل، فاعل سے۔جناب الہٰی کی ذات پاک چونکہ ازلی ہمہ دان۔ست اور چت ( عالم) ہمہ قدرت اور سامرتھ ہے وہ اپنے ازلی علم سے جانتا تھا کہ فلاں اپنے پیارے بندے کو مجھے فلاں وقت مؤیّد و مظفر اور منصور کرنا ہے اور فلاں وقت فلاں شریر کو جو اس کے مقابل ہو گا ذلیل اور خوار اور غائب و خاسر کر دینا ہے۔اس لئے اس نے ابتداء ہی سے ایسے اسباب اور مواد مہیا کر ئے کہ اس وقت مُعَیّن اور مُقَدَّر میں اس کا مخلص مومن متّقی محسن اور برگزیدہ بندہ لا محالہ فتح مند ہو جاتا ہے۔اور اس کا دشمن اﷲ سے دور، فضل سے ناامّید ابلیس شریر اور شرارت پیشہ تباہ و ہلاک ہو جاتا ہے۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۱۸۴)