حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 383 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 383

صبح کے اوقات کی نسبت خصوصیت سے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ :۔اَللّٰھُمَّ بَارِک لِاُمَّتِیْ فِیْ بُکُوْرِھَا أَوْکَمَا قَالَ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ۔اس کے علاوہ ان پانچ باتوں کی توجیہات اور بھی بیان ہوئی ہیں ماحصل ان سب کا یہی ہے کہ کہ ان سے امکنہ مراد ہوں یا ازمنہ۔دعا کے لئے یہ بڑے زبردست ہتھیار ہیں۔جنہوں نے دشمنوں کی بڑی بڑی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ سے شب قدر بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ بخلاف اور راتوں کے یہ رات ساری کی ساری بابرکت ہوتی ہے۔ان دس راتوں کے نظارے کو حشر کے نظارے سے بھی تشبیہ دی اور اس سے یہ بتایا ہے کہ کس طرح پر مختلف حصص عالم سے لوگ اس بیت الحرام کی طرف چلے آتے ہیں۔اور جو لوگ مکّہ اور عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔وہ ہر طرف ان قوموں کے آثار اور نشانات کو مشاہدہ کرتے ہیں۔جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا اور آخر عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوئے۔جیسا کہ آگے کھول کر بیان کیا ہے۔ آیت نمبر۷ سے نمبر۱۰تک اس میں اہلِ مکّہ کو یہی سمجھانا مقصود ہے، کہ تم اس مبارک اور محترم شہر میں ایسے عظیم الشان رسولؐ کی مخالفت کر رہے ہو۔جو تمام انبیاء علہیم السلام کا سردار اور سر تاج ہے۔ا س کا انجام یہ ہو گا کہ تم ہلاک کر دئے جاؤ گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ کیسا عظیم الشان اعجاز ہے۔کہ آنحضرتؐ کے دشمنوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا اور مکّہ معظمہ میں ابدالاباد کے لئے آنحضرت کا کوئی دشمن نہ رہنے دیا۔مکّی زندگی جن مصائب اور مشکلات سے بھری ہوئی ہے۔وہ تاریک اسلام کا زہرہ شگاف باب ہے۔پھر انہی ایّام میں یہ پُر شوکت پیسگوئیاں اور جلالی تہدّیاں مخالفینِ رسالت کو سنائی جاتی ہیں۔جل جلالہٗ جیسا کہ الفجر کے متعلق کہا گیا ہے کہ ثمود کی قوم کے عذاب کے وقت کی طرف اس میں اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ جیسے وہ فجر مامورین و مرسلین کی حقانایت پر مہر کرنیوالی تھی اسی طرح  سے ان راتوں کی طرف اشارہ ہے جن میں فرعونیوں کا خاتمہ ہوا اور بنی اسرائیل نے ان کے ہاتھوں سے نجات پائی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یک اگست ۱۹۱۲ء) قرآن کریم میں کوئی بہت بڑا عظیم الشان مضمون جیسے اﷲ جلشانہٗ کی ہستی کا ثبوتٗ اﷲ تعالیف کے اسماء حسنٰی۔اﷲ تعالیٰ کے افعال، ا ﷲ تعالیٰ کی عبادتیں، یہ چار باتیں جناب الہٰی کے متعلق ہوتی ہیں۔ملائکہ۔اﷲ تعالیٰ کے اسماء، اﷲ تعالیٰ کے رسول۔اﷲ تعالیٰ کے رسولوں پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں، ان کو روکنا، جزاوسزا۔کتب الہٰی پر ایمان،یہ بڑے مسائل ہیں۔جو اﷲ تعالیٰ کی کتابوں میں آتے