حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 382
سُوْرَۃَ الْفَجْرِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا ۶۔۔۔۔۔۔صبح کا وقت۔دس راتیں۔جفت اور طاق اور رات جبکہ رواں ہو پڑے۔ان پانچ اوقات متبرکہ و محضوصہ کو واسطے اظہار ان کی عظمت کے بطور قَسمَ کے یاد فرمایا ہے۔ان پانچ اوقات متبرکہ و مخصوصہ کے تعیّن میں بہت سے قول بیان ہوئے ہیں۔جفت اور طاق کے تعین میں وقت کے علاوہ کوئی اور دوسری شئے بھی مراد سمجھی گئی ہے۔ان سب اقوال میں زیادہ تر اقرب بفہم جو بات معلوم ہوتی ہے۔وہ یہ ہے کہ چونکہ ان آیات کے مابعد ساتھ ہی ذکر بعض بڑی بڑی قوموں مثلاً عاد ارم وغیرہ کی ہلاکتوں کا نبیوں کے مقابلہ کی وجہ سے بیان ہوا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ سب سے بڑا ہتھیار پیغمبروں پیغمبروں کے ہاتھ میں دشمنوں کے مقابلہ کے وقت دعا ہی کا ہوتا ہے۔دعاؤں کی قبولیت کے لئے بعض اوقات ِ مخصوصہ و مقامات متبرکہ خاص مناسبت رکھتے ہیں۔اس لئے ایک شق ان میں سے جو اوقات مخصوصہ و متبرکہ کی ہے۔ذکر کی جاتی ہے۔سب سے زیادہ متبرک ایم و لیالی عشرہ اواخر رمضان المبارک ہیں۔۱۔صبح کو بیسویں کی اعتکاف میں داخل ہوتے ہیں اور یہی مسنون ہے۔اگر چاند تیسویں کا ہو تو دس راتوں میں اعتکاف ختم ہو جاتا ہے۔اور اگر چاند انتیس کا ہو تو دنوں کی تعداد جفت اور راتیں وتر ہو جاتی ہیں۔بعد ختم عشرہ آخر رمضان المبارک کے شوّال کی پہلی رات لیلۃ الجائزہ کہلاتی ہے۔کہ اس رات میں تمامی ماہِ رمضان المبارک کا اجر و ثواب ا تبارک و تعالیٰ بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔پہلی شب سوال کی بہ اعتبار اس کے کہ سارے رمضان شریف کا ثواب اس میں مرحمت کیا جاتا ہے۔حدیث شریف میں نہایت بابرکت رات بیان ہوئی جو کی مصداق ہے۔