حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 30
روئے سُخن ان ہی کی جانب ہے۔یوں فرماتا ہے کہ جہاں اس ہادی۔محسن خلق۔رحمت عالمیاں نے مشورہ لیا۔وہ بیری تمام دنیا کی بیریوں سے بڑی بیری تھی۔اور وہ تمام دنیا کی سی بیری نہ تھی۔وہ تمہارے نظامِ شمسی سے کہیں اونچی سات آسمانوں سے پرے کی بیری ہے۔وہ بیری تو کچھ ایسی بیری ہے۔جس کی جڑھ سے تمام دینی اور دنیاوی منافع کی ندیاں نکلتی ہیں۔باغِ عدن کی ندیاں بھی اسی کی جڑھ سے نکلتی ہیں۔جن کو تم جیحوں اور سیحوں اور نیل و فرات کہتے ہو۔اسی کی جڑھ سے نکلتے ہیں۔جنتہ الخلد کی ندیاں بھی وہاں ہی سے رواں ہیں۔خود جنّت الماوٰی بھی اسی کے پاس ہیں۔اس مضمون کو اﷲ تعالیٰ ان آیتیوں میں بیان فرماتا ہے۔۔۔ ۔۔کا مَآ بھی موصولہ اور معرفہ ہے…یاد رہے یہ کلمہ مَا کا عربی میں تفخیم اور تعظیم کے معنی دیتا ہے۔وہاںمیںجناب رسالت آب فخرِ نبی آدم صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیا دیکھا اپنے رب تعالیٰ کے بڑے بڑے نقش قدرت دیکھے۔کمالاتِ انسانیہ کے حاصل کرنے کے نشانات کا نظارہ کیا جیسے فرماتا۔مَازَاغَْ الْبَصَرُ وَ مَاطَغٰی۔لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی مشرکو! اس مہربان ہادی کے منکرو! بُت پرستو! تم نے کیا دیکھا جس کے دیکھنے کے بعد بُت پرستی جیسے گڑھے میں ڈوب مرے۔بت پرستی کے لوازم وہم پرستی اور جہالت میں مبتلا ہو گئے۔نہ کوئی تمہارے ملک میں تمدّن کا قاعدہ نہ معاشرت کا اصل نہ سیاست کا ڈھنگ اور نہ روحانی تعلیم کا ذریعہ نہ حقیقی عزّت اور فخر کا تم میں وسیلہ۔( تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۹۹۔۲۰۰) ۲۰ تا ۲۳۔۔۔۔۔( واہ۔تم نے تو لات و عزَّی کو دیکھا اور منات کو جو تیسرا اور سب سے گیا گزرا ہے۔) ان آیات کریمہ کو جناب رسالت آب صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کی راستی اور عظمت اور بزرگی کے اثبات میں ایک خاص تعلق ہے… ہر دو آیات … کسی لطیف ہیں اور کس خوبی کے ساتھ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل