حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 29 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 29

۱۱ تا ۱۳۔۔۔۔اس دل نے جو دیکھا۔خوب دیکھا ( یعنی مغالطہ نہ کھایا) کیا تم اس کی دید پر جھگڑتے ہو۔ میں ابہام نہیں… عربی لفظ موصولہ اور معرقہ ہے۔ اس کا صلہ ہے۔ کیا چیز ہے۔یہی قرآن کریم اور حضور علیہ السلام کی تمام پاک تعلیم جس کو اﷲ تعالیٰ نے دوسری جگہ روح بھی فرمایا ہے۔جہاں فرمایا وَ کَذٰلِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا اور یہ وہی روح ہے جو الوہیت اور عبودیت کے کامل میل سے پیدا ہوتی ہے بلکہ یوں کہئے کہ اس کا اﷲ سے فیضان ہوتا ہے اَللّٰھُمَّ اَیِّدْنِیْ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۔آمین۔اب اس کی عمدگی اور راستی کی نسبت فرمایا اور مدعی الہام کی حالت کو بتاتا ہے۔مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی۔اَفْتُمَارُوْنَہٗ عَلٰی مَایَرٰی۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۹۸) ۱۴ تا ۱۹۔۔ ۔۔۔ ۔اور یقیناً اس نے اسے بارِ دیگر دیکھا ( یعنی نظر ثانی کی ) سدرۃ المنتہیٰ کے پس ( سب سے بڑی بیری) جس کے پاس جنّت الماوٰی ہے۔اس سدرہ ( بیری) کو بڑے اعلیٰ درجہ کے انوار ڈھانکے ہوئے ہیں۔اس کی آنکھ نے کجی نہیں۔اور غلطی نہیں کھائی۔ضرور اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات دیکھے۔عرب کا یہ بھی دستور تھا۔جیسے قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب بڑے بڑے کاموں کے واسطے پبلک اور عام اہل الرّائے کی رائے لی جاتی تو کسی سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ جاتے۔کیونکہ ان کے چھوٹے خیمے جلسہ کے قابل نہ ہوتے تھے۔اور عام سایہ دار درختوں میں سے بیری کا درخت اس ملک میں بڑا درخت سمجھا جاتا تھا۔اس رسم کے مطابق باری تعالیٰ حجاز کے باشندوں کو جو حضرت صاحب الوحی کے مخاطب ہیں۔اور آپ کی دعوت کا ابتدأً