حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 334 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 334

ہیں۔کہ اس قرآنی پیشگوئی کا ظہور اس زمانہ میں کیسا کچھ ہو رہا ہے۔اور آئندہ کہاں تک اس علم کی ترقی کی امید ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍جون ۱۹۱۲ء) ۱۳،۱۴۔۔۔تَسْعِیر: آگ روشن کرنا اُزْلِفَتْ: کے معنے اُدْنِیَتْ نزدیک کئے جانے کے ہیں جیسا کہ فرمایا۔لِیُقَرِّ بُوْنَآ اِلَی اﷲِ زُلْفٰی (زمر:۴) فی زماہ اسباب تنعّم اور مصائب و شدائد دونوں بہت بڑھ گئے ہیں۔ابتداء سورۃ سے بارہ آیتوں میں کلام ذوالمعارف کئی کئی مضامین کو ساتھ لئے ہوئے بڑی بلاغت سے بیان ہوا ہے۔قیامت کے احوال اور مبادی قیامت دونوں کو نہایت خوبی سے ادا فرمایا ہے۔شاہ عبدالعزیز صاحب قدس اﷲ سرّہ فرماتے ہیں۔کہ بعض اہلِ تاویل کی یہ رائے ہے کہ بارہ حوادث موت کے وقت جسے قیامتِ صغرٰی کہتے ہیں۔پیش آتے ہیں۔انسان کی روح بمنزلہ آفتاب کے ہے۔جس کی شعاع سے اس کا بدن زندہ اور باقی رہتا ہے۔رُوح کا نکلنا کیا ہے۔گویا تکویرِ شمس ہے۔ان کے حواس و قوٰی کا موت کے وقت بیکار ہونا انکدارب نجوم ہے، اعضائے رئیسہ کا باطل ہونا، ان پہاڑوں کی جنبش ہے۔ہڈیوں کی چربی اور دودھ کا خشک ہونا، تعلّلِ عِشار ہے۔افعال بہیمیہَ و سبعیہَ کے نتائج کا ظہور ہونا حشرب و حوش ہے۔رطوباتِ بدن اور خون کا خشک ہونا، دریاؤں کا سوکھ جانا ہے۔( کبھی یہ دریا موت کے وقت سوکھ جاتے ہیں۔اور کبھی بہادئے جاتے ہیں۔سجّرت کا لفظ دونوں معنوں پر مشتمل ہے۔اور ملکات مکسوبہ کا باہم اجتماع یعنی ظلماتی کا ظلماتی سے اور نورانی کا نورانی سے تزویجِ نفوس ہے۔زندگی کے گراں قدر حصّہ کو جو اس دارالمحِن میںجو طرح طرح کی مشقّتوں کے نیچے دبایا گیا ہے۔مَمئُ وْدَۃ فرمایا کہ اس کو ثواب کے مصرفوں میں خرچ کیا یا گناہ کے۔نامۂ اعمال کا کُھلنا نشِر صحائف ہے۔آخرت کی جزا و سزا کا عیاں ہو جانا روح پر اکشاط سماء یعنی سماوی امور کا اس پر کھل جانا ہے۔جیسا کہ فرمایا: (قٓ: ۲۳) بعد الموت شدائد و مصائب کا دیکھنا سلگتے ہوئے جہنم کا دیکھنا ہے اور فرحت و نیک جُز کا دیکھنا جنّت کا نزدیک ہونا ہے۔آگے فرمایا۔عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَت حضرات صوفیہ نے بھی ان بارہ حالتوں کو مراتبِ سلوک کے طے کرنے پر حمل کیا ہے۔غرض کہ اس قسم کے کلام ذوالمعارف جو پیشگوئیوں پر بھی مشتمل ہو اور واقعاتِ صحیحہ و حقّہ پر بھی مشتمل ہوں۔کسی