حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 315
۲۳۔۔سرکشوں کے لئے بازگشت کی جگہ۔طاغین کے بالمقابل اگلی آیت میں متّقیناور ان کی جزا کو بیان فرمایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۴) طَاغِی: سرکشی کر کے حد سے نکل جانے والا۔متّقی: خداوند تعالیٰ کی حد بندیوں کے اندر رہنے والا ؎ صادق آں باشد کہ ایّام بلا می گزارد بامحبت باوفا (ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۴) ۲۴۔۔: اس سے ظاہر ہے کہ جہنم غیر منقطع نہیں۔جیسا جنّت۔وہ ایک تاویب گاہ ہے جہاں انسان کی روحانی بیماریوں کا علاج ہو کرا سے بہشتی زندگی بسر کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔بہشت عطائً غیر مجذوذ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۴) ۳۲۔۔پاس ہونے والے۔کامیاب اور بامراد ہونے والے متّقین ہی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۴) ۳۴۔۔ جمع کَعْبَۃٌ کی ہے۔کَعْبَیْنِ پَیر کے دونوں ٹخنوں کی ہڈی کو کہتے ہیں سے مراد نوخیز۔نو عمر عورتیں ہیں جن کے پستان ٹخنوں کی طرہ ابسرنے پر ہوں۔محاورہ ہے۔تَکَعَّبَتِ الْچَارِیَۃُ وَ کَعبتِ الْجَارینۃُ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۴) اَتْرَاب: اس لفظ کا اصل ترب اور تراب سے ہے جس سے مطلب خاکساری اور انکساری ہے طاغین کی سزا کے بالمقابل اتراب یعنی منکسرالمزاج عورتوں سے جزاء متقین خوب مناسبت رکھتی ہے۔اَتْرَاب کے لغت کی حقیقت حصرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عمل الترب کے اس بیان