حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 283
اور ان سب کے بعد میں ہمارے سیّد و مولیٰ سیّد ولدِ آدم فخر الاولین والآخرین افضل الرسل و خاتم النبیّین حضرت محمد رسول رب العٰلمین صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے۔اور پھر کیسی رونمائی فرمائی کہ ان کے ہی نمونہ پر ہمیشہ خلفاء امّت کو بھیجتا رہا حتٰی کہ ہمارے مبارک زمانہ میں بھی ایک امام اس ہدایت کے بتلانے کے لئے مبعوث فرمایا اور اس کو اور اس کے اقوال کو تائیدات عقلیہ اور نقلیہ و آیات ارضیہ و سماویہ سے مؤید فرماکر روز بروز ترقی عطا کرتا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح الہٰی ہاتھ ایک انسان کی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح آئے دن اس کے اعداء نیجا دیکھتے ہیں۔۔ہاں تو پھر خدا کی ایک ممتاز جماعت ہمیشہ اپنے اقوال سے اس راہ کو بتلاتی اور اپنے اعمال سے نمونہ دکھلاتی ہیں۔جس سے ابدی آرام عطا ہو۔پھر دیکھو کہ انعامِ الہٰی تو ہوتے ہیں مگر ان انعامات کو دیکھنے والے دو گروہ ہوتے ہیں ط ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان ہدایات کی قدر کرتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں جو قدر نہیں کرتے ہیں۔اور ان دستوروں پر عمل درآمد نہیں دکھاتے۔ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے۔ایک گروہ جو سعادتمندوں کا گروہ ہوت ہے ان پاک راہوں کی قدر کرتا ہے اور اپنے علمدر آمد سے بتلا دیتا ہے کہ وہ فی الحقیقت اس راہ کے چلنے والے اور اس راہ کے ساتھ پیار کرنے والے ہیں اور دوسرے اپنے انکار سے بتلا دیتے ہیں کہ وہ قدر نہیں کرتے یہ قرآن شریف جب آیا۔اور ہمارے سیّد و مولیٰ رسولِ اکرم فخرب بنی آدم صلی اﷲ علیہ وسلم نے قرآن کریم اور پھر اپنے کامل اور پاک نمونہ سے ہدایت کی راہ بتلائی۔بہت سے نابکار سعادت کے دشمن انکار اور مخالفت پر تل پرے اور جو سعادت مند تھے وہ ان پر عمل کرنے کے لئے نکلے اور دنیا کے سرمایہ فخر و سعادت اور راحت و آرام ہوئے اور ان کے دشمن خائب و خاسر اور ہلاک ہوئے آخر وہ سعادت کا زمانہ گزر گیا۔دور کی باتیں کیا سنا,ں۔؍ گھر کی اور آج کی بات کہتا ہوں۔اب بھی اسی نمونہ پر ایک وقت لایا گیا۔اور وہی قرآن شریف پیش کیا گیا ہے۔مگر سعادتمنوں نے قدر کی اور ناعاقبت اندیش نابکاروں نے ناشکری اور مخالفت۔مگر نادان انسان کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انعامِ الہٰی کی ناقدری کرنے سے ہم سے کوئی باز پُرس نہ ہو گی اور ان کا یہ خیال غلط ہے۔دنیوی حکومت میں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی حاکم کا حکم آفاوے اور پھر رعایا اس حکم کی تعمیل نہ کرے تو سزایاب ہوتی ہے۔نہ ماننے والوں کا آرام رنج سے اور ان کی عزّت ذلّت سے متبدّل ہو جاتی ہے۔پھر اگر کوئی احکم الحاکمین کی بتائی راہ اپنا دستور العمل