حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 282 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 282

عام طور پر ہم لوگ ان کو دیکھ نہیں سکتے۔کوئی بڑی اعلیٰ درجہ کی خوردبین ہو تو اس کے ذریعہ سے وہ نظر آتے ہیں۔پھر بتلایا کہ پہلا انعام تو عطاء وجود تھا پھر یہ انعام کیا  خدا ہی کا فضل تھا کہ کان دیئے۔آنکھیں دیں۔اور سُنتا دیکھتا بنا دیا۔سارے کمالات اور علوم کا پتہ کان سے لگ سکتا ہے یا نظارہ قدرت کو دیکھکر انسان باخبر ہو سکتا ہے۔یہ عظیم الشّان عطیے بھی کس کی جناب سے ملے؟ مولیٰ کریم ہی کی حضور سے ملے۔آنکھیں ہیں تو نظارۂ قدرت کو دیکھتی ہیں۔خدا کے پاک بندوں اُس کے پاک صحیفوں کو دیکھ کر حَظ اٹھائیں۔کان کے عطیہ کے ساتھ زبان کا عطیہ بھی آ گیا کیونکہ کان اگر نہ ہوں تو زبان پہلے چھِن جاتی ہے۔اب اگر ان میں سے کوئی نعمت چھن جاوے تو پتہ لگتا ہے کہ کیسی نعمت جاتی رہی۔آنکھ بڑی نعمت ہے یا کان بڑی دولت ہے۔ان عطیوں میں کوئی بیماری یا روگ لگ جاوے تو اس ذرا سی نقصان کی اصلاح کے لئے کس قدر روپیہ۔وقت خرچ کرنا پڑتا ہے۔مگر یہ صحیح سالم، عمدہ، بے عیب، بے روگ عطیہ اُس مولیٰ کریم نے مفت بے مزد عنایت فرمائی ہیں۔یوں نظر اٹھاتے ہیں تو وہ عجیب در عجیب تماشاہائے قدرت دیکھتے ہوئے آسمان تک چلی جاتی ہے۔ادھر نظر اٹھاتے ہیں تو خوش کن نظارے دیکھتی ہوئی افق سے پار جا نکلتی ہے۔کان کہیں دلکش آوازیں سُن رہے ہیں کہیں معارف و حقائقِ قدرت کی داستان سے حظ اٹھاتے ہیں۔کہیں روحانی عالم کی باتوں سے لطف اٹھا رہے ہیں بیشک یہ مولٰی کریم ہی کا فضل اور احسان ہے کہ ایسے انعام کرتا ہے وہ پیدا کرتا ہے اور پھر ایسی بے بہا نعمتیں عطا کرتا ہے۔کسی کی ماں۔کسی کا دوست۔کسی کا باپ وہ نعمتیں نہیں دے سکتا جو خدا تعالیف نے دی ہیں۔پھر اسی پر بس نہیں فرمائی۔ہم نے انسان کو ایک راہ بتلائی۔یہی ایک مسئلہ ہے جو بڑا ضروری تھا۔ہم پیدا ہوئے سب کچھ ملا مگر کوئی کتنی کوششیں کرے۔ہمیشہ لے لئے نہ کوئی رہا ہے نہ رہے گا۔سارے انبیاء و رُسل۔تمام اولیاء و کبراء ملّت تمام مدبّر اور برے برے آدمی سب کے سب چل دئے۔پس کوئی ایسا انعام ہو جو ابدالآباد راہت اور سُرور کا موجب ہو۔اُس کے لئے فرمایا ہم نے ایک راہ بتلائی اگر اس پر چلے تو ابدالآباد کی راحت پا سکتا اس پاک راہ کی تعلیم ہمیسہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کی معرفت ہوئی ہے۔گو خود فطرتِ انسانی میں اس کے نقوش موجود ہیں۔بہت مدّت گزری جبکہ دنیا میں ایک عظیم الشان انسان اس پاک راہ کی ہدایت کے لئے آیا جس کا نام آدم علیہ السلام تھا۔پھر نوح۔ابراہیم موسٰی۔عیسٰی علیہم السلام آئے اور ان کے درمیان ہزاروں ہزار مامور من اﷲ دنیا کی ہدایت کو آئے