حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 271 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 271

برقِ بصر سے مراد تَحَیُّر و فَزَع ہے۔جو انسان کی مصیبت کے وقت آنکھیں پھاڑ دیتا ہے مصیبت کا وقت آئے تو ساری تدبیریں اُلٹ پڑتی ہیں۔عقل ہوتے ہوئے عقل کام نہیں دیتی گویا کہ نورِ فراست کو بھی گرہن لگ جاتا ہے۔گرہن کی اصل بھی اقترانِ شمس و قمر ہے۔یعنی ایک کا اوجود دوسرے کے بالمقابل حائل ہو جاتا ہے جو نور کے ہوتے ہوئے نور نظر نہیں آتا۔یومِ بدر ظاہری طور بر بھی بجلی کوندی۔مینہ برسا۔تدبیریں کفّار کی ان پر اُلٹ پڑیں۔: کہنے سے بھی کام نہ چلا۔قرآن کریم چونکہ ذوالمعارف ہے۔لَا تَنْقَضِی عَجَائِبہٌ اس کی شان حدیث شریف میں بیان ہوئی ہے۔اس لئے یہ پیشینگوئی اجتماع شمس و قمر کی گرہن کے ساتھ ہمارے اس زمانہ میں بھی مطابق وارقطنی جس میں لَمّ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلَقَ اﷲُ السَّمٰوٰتِ وَالّاَرْضَ ہے۔رمضان کے مہینہ میں ۱۸۹۴ء میں بڑی شان و شوکت سے مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقِ دعوٰی کی علامت میں پوری ہوئی۔اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر جس طرح بدر کے شکست خوروں کو اَیْنَ الْمَفَرُّ! کہنے نے فائدہ نہ دیا اسی طرح اس وقت کے مخالفوں کو باوجود حدیث سریف کی فعلی شہادت کے ضعف حدیث کو اپنا فرصی منفَرّ قرار دینا پڑا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۱۴۔۔متنبّہ کیا جائے گا انسان اُس دن اُن کاموں سے جو اس نے نہ کرنے تھے اور کئے۔اور نیز متنبّہ کیا جائے گا۔اُن کاموں سے جو اس نے کرنے تھے اور نہ کئے۔: وہ کام جو نہ کرنے کے تھے۔کر لئے۔: وہ کام جو کرنے کے تھے۔نہ کئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ اپریل ۱۹۱۲ء) استغفار کیا ہے۔پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمدًا ہوں یا سہوًا۔غرض مَا ۔جو نہ کرنے کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے۔اپنی تمام کمزوریوں اور اﷲ تعالیٰ کی ساری نارضامندیوں کو مَا اَعْلَمُ وَ مَا لَا اَعْلَمُ کے نیچے رکھ کر یہ دعا کرے کہ میری غلطیوں کے