حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 270
ر نہیں؟ اس نے کہا کہ مولوی صاحب میرے آگے آیئے۔مَیں بہت آگے بڑھا وہ مجھ کو کھڑکی کے بالکل پاس لے گیا۔جس میں بیٹھا کرتا تھا۔مجھے کہنے لگا اور آگے ہوجئے۔میں اَور آگے بڑھا۔اس نے پھر کہا اور آگے ہوجئے۔اور آگے تو کیا ہوتا۔مَیں نے اس کھڑی میں اپنے سر کو بہت قریب کر دیا۔اُس نے کہا کہ یہ جو آپ کے سامنے ایک محراب دار دروازہ نظر آتا ہے۔اس کا مالک میری قوم کا آدمی تھا اور وہ اتنا بڑا شخص تھا کہ ایک قسم کی سُرخ چھتری جب وہ گھوڑے پر سوار ہو کر چلا کرتا تھا تو اس کے اوپر لگا کرتی تھی اور میں سیاہ بھی نہیں لگا سکتا۔اب اس کی بیوی میرے گھر میں برتن مانچھنے پر ملازمہ ہے۔یہ بھی سُن لیجئے کہ مَیں اپنے اس تخت کو چھوڑ کر جو آپ کے سامنے پڑا ہوا ہے، ہمیشہ اس کھڑکی میں بیٹھا کرتا ہوں۔مگر اس تخت کو چھوڑنے اور اس کھڑکی میں بیٹھنے کی حقیقت مجھے آج ہی معلوم ہوئی ہے۔پھر جب کچہری کا وقت ہو گیا۔مَیں اسی جوش میں کچہری گیا۔رئیسِ شہر اکیلا تھا۔میں نے وہی بات کہی تو رئیس نے مجھے ایک قلعہ دکھلایا اور کہا کہ یہ اس شہر کے اصل مالک کا ہے۔جو اَب کسی ذریعہ سے ہمارے قبضہ میں آ گیا ہے۔پھر اس نے کہا کہ یہ پہاڑ جو آپ کے سامنے موجود ہے۔اس کا نام دھارانگر ہے۔اس پر اتنا بڑا شہر آباد تھا کہ ہمارے شہر کی اس کے سامنے کوئی حقیقت نہ تھی یہ مجلس بھی میرے لئے ہر وقت نصیحت ہے۔اور جہاں ہم راج تلک لیتے ہیں وہاں تمام ارد گرد کچّے مکانات اصل مالکوں کے ہیں اور یہ تین ناصح ہر وقت نصیحت کے لئے میرے سامنے موجود رہتے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ خوب سمجھے۔جب خدا پکڑتا ہے تو پھر کوئی نہیں بچا سکتا۔یاد رکھو جیسے گناہ کرتے ہو۔ان کی سزا پانیوالے تمہاری آنکھ کے سامنے ہوتے ہیں۔پھر بھی تم نہیں سمجھتے۔ہمارے یہاں تمہارے جھگڑے فیصلہ نہیں پاتے۔کچھ لوگوں نے عذر کیا ہے۔اور کچھ ابھی باقی ہیں۔(بدر حصّہ دوم ۲۸؍نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ۸۵۔۸۶) ۷۔۔ کے لفظ میں بھی استعجاب اور استبعاد شدید کفّار کی طرف سے بیان ہوا ہے۔یعنی کہاںہو گی قیامت؟ ہوتی ہوا تی کچھ نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۸ تا ۱۱۔۔۔ ۔۔