حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 235
یاد دلا کر اسی کو اپنا کارساز سمجھنے کی طرف اس آیت میں توجّہ دلائی۔عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے: مَنْ جَعَلَ الْھُمُوْمَ ھَمًّا وَّ احِدًاھَمَّ اٰخِرَتِہٖ کَفٰی اﷲُ ھَمَّ دُنْیَاہُ۔وَمَنْ تَشَعَّبَ بِہِ الْھُمُوْمَ اَحْوَالَ الدُّنْیَا لَمْ یُبَالِ اﷲَ أیّ وَادِیْھَا ھَلَک مشکوٰۃ۔کتاب العلم) جس شخص نے اپنے تمام فکروں کو اکٹھا کر کے ایک آخرت ہی کی فکر بنا ڈالا تو کارساز ہو جاتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے تفکّرات کا۔لیکن جس کو پریشان کر رکھا ہے اس کے دنیا کے احوال نے جو اسی میں مستغرق ہے تو خدا کو بھی پروا نہیں کہ دنیا کے کسی خاردار جنگل جھاڑیوں میں وہ ہلاک ہو جاوے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍ مارچ ۱۹۱۲ء) ۱۳،۱۴۔۔۔: وہ طعام ہے۔جو گلو گیرہ حلق میں پھنسنے والا ہو۔: یہ عربی لفظ اﷲ تعالیٰ کے غضب پر قرآن شریف میں کہیں نہیں بولا گیا۔یہ ہماری زبان کا نقص ہے جو غضبِ الہٰی کے معنے خدا کے غصّہ کے کرتے ہیں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍ مارچ ۱۹۱۲ء) ۱۶،۱۷۔۔۔۔: اس آیت شریفہ میں پیغمبر ( صلی اﷲ و آلہٖ وسلم) کو مثیلِ موسٰیؑ قرار دیا ہے۔اور آیت استخلاف سُورہ نُور (نور:۵۶) فرما کر خلفائے اُمّت مرحومہ کو خلفائے موسوی کا مثیل قرار دیا ہے۔چونکہ