حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 228
: آج تو یہ لوگ دعوٰی کرتے ہیں کہ جتنے ہیں۔بڑے ہوئے ہیں لیکن چند روز کے بعد ان کو پتہ لگ جاوے گا کہ کون کامیاب ہوتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍ مارچ ۱۹۱۲ء) ۲۷،۲۸۔۔ ۔غیب کی خبروں پر اطہار علی الغیبکے طریق سے یعنی متحدیانہ طور پر سوائے رسولؐ کے دوسرا کوئی قادر نہیں ہو سکتا۔اگرچہ پیش گوئیوں کے مفصّل اجزاء نظری اور تعبیر طلب بھی ہوتے ہیں۔مگر نفس پیشگوئی جو ایک غیب کی بات پر مشتمل ہوتی ہے۔اس پر رسول اور نبی کو ایسا وثوقِ کامل ہوتا ہے کہ اس اظہار علی الغیب کی بناء پر رسول کی طرف سے متحدیانہ دعوٰی ہوتا ہے۔اور درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔؎ قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ مَیں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے غرض کہ تحدّی کرنا اور اس میں پورا اترنا یہ نبی کا خاصہ ہے۔غیر نبی کو اظاہر علی الغیب میں دخل نہیں۔۔رصد نگہبان۔پہرے دار فرشتوں کی حفاظت۔سورۃ الشورٰی میں وحی اور کلام الہٰی کو تین قسموں پر منقسم کیا ہے۔ (الشورٰی: ۵۲) عوام النّاس وحی کا نام سُن کر گھبرا اُٹھتے ہیں۔حالانکہ تینوں قسم کو وحی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے وحی کے لفظی معنے صرف اشارہ کے ہیں۔ میں عام خوابوں کو بیان فرمایا ہے۔--- یہ بھی ایک قسم کی وحی ہے۔جو اولیاء اور اہل اﷲ کی وحی ہے۔جن کے اکثر مکاشفات وغیرہ تعبیر طلب ہوتے ہیں۔جب تک تعبیر کا وقت نہ آوے۔ان پر حجاب ہوتا ہے۔تیسری قسم وحی