حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 17
سُوْرَۃِ الذّٰرِیٰتِ مَکِّیَّۃٌ ۱۴،۱۵۔۔ ۔فتنہ کے معنے کیلئے دیکھو مفرداتِ راغب کو جو قرآن کریم کی معتبر لغت اور بہت پرانی کتاب ہے۔’’ اصل الفتن اِدْخَالُ الذَّھَبِ النَّارَ لِیَظْھَرَ جَوْدَتُہٗ مِنْ رَدَائَتِہٖ‘‘ فتنہ کے اصل معنے ہیں۔زر کو آگ میں ڈالنا تاکہ اس کی میل کچیل نکل جاوے۔اور قرآن کریم میں فرمایا ہے۔۔جب وہ آگ میں ڈآلے جا کر عذاب دیئے جائیں گے۔۲۔الفتنۃ: الْعَذَابُ۔فتنہ کے معنے ہیں عذاب۔اس کے ثبوت میں قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھو۔۔اپنی سزا کا مزہ لو۔۳۔اسبابِ عذاب کو بھی فتنہ کہتے ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔(توبہ:۴۹) دیکھ وہ عذاب کے موجبات میں جا پڑے ہیں۔۴۔امتحان لینا۔محنت لینا بھی فتنہ کے معنی ہیں۔قرآنِ کریم میں ہے۔ (طٰہٰ:۴۱) اور ہم نے تیرا خوب امتحان لیا۔ (انبیاء:۳۶) اور ہم امتحان کے طور پر تمہیں بدی اور نیکی میں مبتلا کرتے ہیں۔۵۔فتنہ کے معنے دُکھ بھی قرآن کریم میں آئے ہیں۔چنانچہ فرمایا ہے۔وَ قَاتِلُوْھُمْ (بقرہ:۱۹۴) اور ان لڑنے والوں سے تم بھی لڑوتا انکی ایذارسانی بند ہو جائے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ ۸۰۔۸۱)