حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 114 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 114

کا نتیجہ گدھے کی طرح ہے۔جو فوائد قلیلہ کے لئے اس قدر بوجھ اٹھاتا ہے۔کیا بُری مثال ہے۔وہ جامع اخلاق انسان جو صفاتِ عالیہ کا وارث ہو سکتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کا وارث بن سکتا ہے۔وہ انسان جس کا خدا اﷲ ہے اور بچھڑا نہیں۔وہ اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ اخلاقِ فاصلہ کے حاصل کرنے اور منشاء زندگی کو معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی معلّم آئے جو مزکّی ہو اور تالی آیات اﷲ کا ہو۔مجھے اس آیت نے بارہا متائثر بنایا ہے۔(طٰہٰ:۹۰)وہ معبود کیسا ہو سکتا ہے جو کسی کی بات کا جواب ہی نہیں دیتا۔اگر وہ کسی ایک سے بھی بولتا تو کم از کم یہ الزام اُٹھ جاتا جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اب کسی سے کلام نہیں کرتا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے۔کہ وہ بچھڑے خدا پر ایمان لائے ہیں نہ کہ متکلّم خدا پر ! وہ ہرگز نہیں مانتے کہ وہ ۔۔(الفاتحہ:۲ تا۴) خدا ہے۔ایک نیچری کہتا ہے کہ دعاؤں کا کچھ نتیجہ اور اثر نہیں۔اس قسم کا اعتقاد رکھنے والا بھی کدا کو بچھڑا ہی مانتا ہے۔اسلام کے خدا پر وہ یقین نہیں لاتا۔جس کی بابت یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ اﷲ وہی ہے جس نے یہ سچ فرمایا۔اُ(المؤمن:۶۱) غرص انسان اسفار سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔جب تک معلّم۔مزکّی موجود نہ ہو۔اگر ساری دانش اور قابلیت کتابوں پر منحصر ہوتی تو میں سچ کہتا ہوں کہ مَیں سب سے برھ کر تجربہ کار ہوتا! کیونکہ جس قدر کتابیں مَیںنے پڑھی ہیں۔بہت تھوڑے ہوں گے جنہوں نے اس قدر مطالعہ کیا ہو ! اور بہت تھوڑے ہوں گے جن کے پاس اس قدر ذخیرہ کتب کا ہو گا! مگر مَیں یہ بھی سچ کہتا ہوں کہ وہ ساری کتابیں اور سارا مطالعہ بالکل رائیگاں اور بے فائدہ ہوتا۔اگر مَیں امام کے پاس اور اس کی خدمت ممیں نہ ہوتا ! مجرّد کتابوں سے آدمی کیا سیکھ سکتا ہے جب تک مزکّی نہ ہو؟ اب میری حالت یہ ہے کہ جب کہ مَیں نے محض خدا کے فضل سے راست باز کو پا لیا ہے تو ایک منٹ بھی اس سے دور رہنا نہیں چاہتا!! ایہاں تک کہ ایک نے ہزار روپیہ دے کر بلوانا چاہا۔مگر میں نے گو ارانہ کیا! پھر اس پر مجھے تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے دوسرے بھائی کیونکر قادیان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔میں یہ باتیں صرف تحدیث بالنعمۃ کے طور کہتا ہوں۔شاید کسی کو فائدہ ہو! کہ مَیں نے بہت کتابیں جمع کیں لیکن جو کجھ مجھے ملا محض اس کے فضل سے ملا ! تم نہ تھے۔کوئی دعوٰی نہ تزا اس وقت میرے دل نے مان لیا تھا کہ یہ سچاہے! میرے لئے اس کی سچائی کی دلیل اور نشان مَیں آپ ہی تھا! پھر میرا لڑکا عبدالحی ؔ آیۃ اﷲ ہے۔محمد ؔ احمد مر گیا تھا۔لودھیانہ کے ایک معترض نے اس پر اعتراض کیا۔میرے غافل قلب نے اس کی پرواہ نہ کی اور حقیقت میں میری یہ حالت ہے کہ میں محض اولاد کا خواہشمند نہ تھا