حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 113 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 113

اگر کہو کہ اس وقت بہت سے سلسلے گدّی نشین اور سجادہ نشین اور کیا کیا ہیں۔تو سُنو! مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰبِۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا۔اسفار ان بڑی کتابوں کو کہتے جن سے کشفِ حقائق ہو جاتا ہے۔مگر کوئی بتائے کہ ان انکشافات کے اسباب سے گدھا کیا فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟ گدھا جس کی عقدِ ہمت اور توجہ اس سے پرے نہیں کہ دانہ اور گھاس مل جاوے۔یا زیزادہ سے زیادہ یہ کہ اچھی اروڑی مل جاوے۔اور طویلہ کا آخری حصّہ ہو جو خاکروب نے اچھی طرح صاف نہ کیا ہو۔رات کو جھول اور پالان مل جاوے۔مقدرت سے زیادہ بوجھ نہ ہو۔اصل غرض اس کی تھوڑی سی نفس پرستی ہے! اسی مثال کو اﷲ تعالیٰ یہاں بیان کرتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس انکشافِ حقائق کے اسباب ہوتے ہیں مگر وہ ان سے اس قدر فائدہ صرف اٹھاتے ہیں۔جس قدر گدھا دانے، گھاس ، جُھل، پالان اور تھوڑی سی رسّی یا اروڑی سے! پس جن کی اصل غرض دنیا ہوتی ہے۔وہ ان اسباب انکشافِ حقائق سے اسی مقدار دنیا طلبی کے فائدے اٹھاتے ہیں۔اس سے زیادہ کچھ نہیں! اس وقت ایک قوم دنیا میں موجود ہے۔جس نے ۲۷ سو زبان میں ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔اور پھر ترجمہ در ترجمہ کر کے بھی کہتے کہ وہ کلام اﷲ ہے!اگر پوچھو کہ اس پر عمل کرنا شرط ہے۔یا نہیں؟ تو کہہ دیتے ہیں کہ شرط نہیں۔کیونکہ شریعت لعنت ہے! پر سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قدر بوجھ کیونکراٹھایا ہے؟ اس کی غرض ترجمہ کنندہ کی غرض روپیہ ہے۔پریچر کی غرض اتنی ہی ہے کہ تنخواہ مل جاوے! یہ قوم اس کی مصداق ہے(البقرۃ:۸۰) یہ صاف ظاہر ہے کہ اس قدر زبانوں میں مسیح نے کلام نہیں کیا۔مگر پھر بھی وہ اس کا نام کلام اﷲ کتابِ مقدّس رکھا جاتا ہے۔پریچروں کو کلامِ الہٰی کے خادم کہا جاتا ہے۔اس سے کس صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ یَتْلُوْا کی صفت نہیں رہی! یہ تو ہے غیر مذہب کے لوگوں کا حال۔۱؎ اپنے گھر میں غور کرو۔کثرت کے ساتھ وہ لوگ جو علماء کہلاتے ہیں۔ایسے ملیں گے۔جو یہ کہتے ہیں کہ تَبَارَکَ الَّذِیْ یاد ہے۔اور کچھ نمازِ جنازہ آ جاوے۔گویا سارے قرآن میں ان کو اتنی ہی ضرورت ہے کہ مُردے یا نئے تعلق نکاح وغیرہ سے کچھ مل جاوے۔قرآن کی غرض و غایت ان کے نزدیک صرف اتنی ہی ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔مصنّفوں کو دیکھو۔کتابیں لکھتے ہیں۔مطلب صرف اتنا ہے کہ کچھ فائدہ ہو۔ان اسفار ۱؎ الحکم ۱۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۷