حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 91 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 91

ہے۔کہا۔گوشت و پلاؤ۔تب میں نے اسے کہا کہ پھر حضرت خواجہ صاحب پر اعتراض کرنے سے پہلے خدا پر اعتراض کرو گے کہ اس جناب میں لحاظ داری ہے۔ایک دفعہ ایک بڑا معزّز قوم و عہدے کے اعتبار سے یہاں آیا اور اس نے مجھے کہا کہ یہاں بڑی لحاظ داریاں چلتی ہیں۔میں نے کہا۔کیونکر۔کہا۔دیکھئے کل مولوی عبدالکریم صاحب کیلئے حضرت صاحب نے کھانے کے متعلق کسی قدر تاکید فرمائی ہے۔میں نے کہا۔پھر لحاظ داری کیا ہوئی؟ لحاظ داری ہوتی تو آپ جو اُن سے باعتبار قوم و عہدہ معزز ہیں۔آپ کیلئے کوئی خاص اہتمام ہوتا۔اس طرح اسے سمجھا کر میں نے پھر دکھایا کہ دیکھو۔گھاس پر ہم دونوں کا پاؤں پڑ رہا ہے مگر اس بڑ کی چوٹی پر نہیں۔خدا نے ایک کو بڑا بنایا۔ایک کو چھوٹا… خدا تمہیں نیک مجلس عطا کرے اور عاقبت اندیشی سے گفتگو کرنے کا طرز آوے۔لوگوں سے ان کے قدر کے مطابق بات کرو۔حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نُنَرِّلَ النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ۔جب کوئی بات کرنے والا بیہودگی کی راہ اختیار کرے تو تم ایسی تدبیر کرو کہ وہ بیہودگی چھوڑ دے۔(بدر ۲۴ ؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۴) ۴۷۔ معیت متشابہ ہے محکم نہیں۔کیونکہ باعتبار ذات کے تو اﷲ تعالیٰ فرعونؔ ہامان کے ساتھ بھی ہے پھر ایک اور مقام ہے۔جب حضرت موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا۔ہم پکڑے گئے تو حضرت بولے۔(الشّعرآء:۶۳)دیکھئے یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ بھی معیّت نہ رکھی۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۴) ۴۸۔ سو جاؤ تم دونوں اس کے پاس اور تم دونوں کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے