حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 90
: قبولیتِ دعا کا ذکر جو اس سورۃ کا منشاء ہے۔موسٰیؑ مانگتے ہیں نبی کریمؐ کو فرمایا اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَک۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۷) ۴۱۔ : تجھے ہمیشہ مصفّا بناتے رہیں (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) اور ہم نے تیرا خوب امتحان لیا (نورالدّین طبع سوم صفحہ۸۰) ۴۵۔ : کیونکہ اس کو بادشاہ بھی میں نے ہی بنایا ہے۔پس اس کے شاہی مزاج اور درباری قوانین کا لحاظ رکھو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۷) : حفظِ مراتب ضروری ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۷) اﷲ تعالیٰ نے ارشاد کر کے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو ہدایت فرمائی کہ ’’ فرعون کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرنا‘‘ یہ امر قابلِ غور ہے۔جن لوگوں کو خدا کی باریک در باریک مصلحتوں نے امیر بنایا ہوتا ہے ان کے مراتب کا لحاظ کرناچاہیئے۔بعض نادان کہتے ہیں۔ہم کیوں کسی کی خوشامد کریں مگر جب خدا نے کسی کو خوشامد کیلئے بنایا تو بندے کی کیا ہستی کہ اس کی مخالفت کرے۔ہمارے ضلع میں ایک صوفی چشتی تھے۔حضرت شمس الدّین۔کسی نےان کی نسبت کہا کہ فقیر نہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ وہاں ڈپٹی یا تحصیلدار آتے ہیں تو مرغ پکتا ہے اور ہمارے لئے دال۔میں نے اسے کہا کہ خدا تعالیٰ آپ کو گھر میں کیا دیتا ہے۔کہا۔روکھی سوکھی روٹی۔اور ان تحصیلداروں اور ڈپٹیوں کو کیا دیتا