حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 80 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 80

الغرض جس قدر انبیاء اور راست بازپاک انسان گزرے ہیں۔ان کے ذمّہ چند عیوب لگائے ہیں۔پھر ہماری سرکار ہے۔احمد مختار صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تو ان کو خاص نقار ہے اور دھت ہے ان کو گالیاں دینے کی۔باوجود اس گندہ د ہنی کے پھر بھی ایسے لوگوں کو کوئی بڑے اخلاق والا کہتا ہے تو اس کی غیرتِ دینی پر افسوس!ایک شخص تمہارے پاس آتا ہے۔اور تم کو آ کر کہتا ہے۔میاں تم بڑے اچھّے بڑے ایمان دار۔آئیے تشریف رکھئے۔باپ تمہارا بڑا ڈوم، بھڑوا، کنجر، بڑاحرام زادہ، سؤر، ڈاکو بدمعاش تھا۔تم بڑے اچھے آدمی ہو۔اور ساتھ ساتھ خاطرداری کرتا جائے۔تو کیا تم اس کے اخلاق کی تعریف کرو گے؟ تم جہان کے ہادیوں کو جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ بیان کی جاتی ہے۔اور میرا تو اعتقاد ہے کہ ان کو کوئی نہیں گِن سکتا۔بدکار، گنہگار کہنے والا، ایک شخص کی مزوّرانہ خاطرداری سے خوش اخلاق کہلا سکتا ہے؟ اﷲ تعالیٰ کے برگزیدوں کی توہتک کرتے ہیں اور تم ان کی نرمی اور خوش اخلاقی کی تعریف کرو۔حد درجے کی بے غیرتی ہے؟ یہاں تک تو انہوں نے کہہ دیا کہ شریعت کی کتابیں لعنت ہیں۔پرانی چادر ہیں۔ان کتابوں کو جو حضرت ربّ العزّت سے خلقت کی ہدایت کیلئے آئیں۔لعنت کہنا کسی خوش اخلاقی کا کام ہوسکتا ہے؟ دیکھو گلتیوں کا خط کہ اسی میں شریعت کو لعنت لکھا ہے۔پھر خدا سے بھی نہیں ٹلے۔کہتے ہیں۔اس کا بیٹا ہے۔( ) پھر اس بیٹے پر اس غضب کی توجہ کی ہے کہ اپنی دعائیں بھی اسی سے مانگتے ہیں۔بیٹے میں ایمان لانے کے بدوں کسی کو نجات نہیں۔خدا کِسی کو علم نہیں بخش سکتا۔یہ تو رُوح القدس کا کام ہے۔نہ اﷲ تعالیٰ کا۔غرض اس درجہ بداخلاقی سے کام لینے والوں کو خوش خُلق کہنا محض اس بناء پر کہ جب کوئی ان کے پاس گیا تو مشنری نے انجیل دے دی۔کسی کو روپیہ دے دیا۔کسی کی دعوت کر دی۔حد درجے کی بے غیرتی ہے۔ان ظالموں نے ہمارے سب ہادیوں کو بُرا کہا۔تمام کتبِ الہٰیہ کو بُرا کہا۔جناب الہٰی کے اسماء صفات کو بُرا کہا۔اسے سمیع الدعاء۔علم دینے والا نہ سمجھا۔پھر اخلاق والے بنے ہیں توبہ! توبہ! ان کے کفّارہ کا اُلّو ہی سیدھا نہیں ہوتا جب تک یہ تمام جہان کے راست بازوںکو اور تمام انسانوں کو گنہگاربدکار اور لعنتی نہ کہہ لیں۔ان میں خوش اخلاقی کہاں سے آ گئی۔(الفضل جلد نمبر۱ نمبر۶ ۲۳؍جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ۱۳ کالم نمبر۱)