حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 79

: دوسرے مقام پر فرماتا ہے۔کہ ۲۵ پارہ سورہ زخرف اخیر رکوع میں (الزخرف:۸۷) یعنی وہ شفیع ہو گا۔جو آج کل حق کی گواہی دے رہا ہے۔اور اسے سب جانتے ہیں یعنی سیّدنا محمد رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلم۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۶) ۸۹،۹۰۔ : پنجابی لفظ ’’ایڈا‘‘ غالباً اسی سے نکلا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۶) ۹۱۔  قریب ہے کہ آسمان چُور چُور ہو جائیں اور زمین شَق ہو جائے اور پہاڑ ذرّہ ذرّہ ہو کر گر پڑیں کہ وہ رحمان کا بیٹا پکارتے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۱) : یہ پیشگوئی ہے اور ایسے زلازل اس زمانہ میں یسوع پرستوں کے جزائر پر بالخصوص آئے۔: سخت۔آسمان سے وہ عذاب ہے جو اٹل ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۶) اسی طرح مشنری عیسائی بڑی بداخلاق قوم ہے۔کوئی خُلق ان میں ہے ہی نہیں۔ایک شخص نے کہا۔ان کی تعلیم میں تو اخلاق ہے۔اور ایک نے کہا۔ان میں بڑا خُلق ہے۔اب کہنے والے نادان ہیں۔ان کے ہاں ایک عقیدہ ہے۔نبی معصوم کا جس کے یہ معنے ہیں ایک ہی شخص دنیا میں ہر عیب سے پاک ہے۔باقی آدم سے لے کراس وقت کے کُل انسان گنہگار اور بدکارہیں۔ان لوگوں نے یہاں تک شوخی سے کام لیا ہے کہ حضرت آدمؑ کے عیوب بیان کیے۔پھر حضرت نوحؑ کے۔حضرت ابراہیمؑ کے۔حضرت موسٰیؑ