حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 587 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 587

ایسی بشارات حسب ِکتب مقدّسہ ضرور ہوا کرتی ہیں۔دیکھو متی۔پطرس نے جب کہا۔ہم نے تیرے لئے سب کچھ چھوڑ دیا۔تو مسیحؑ نے فرمایا۔تم بادشاہت کے وقت بارہ تختوں پر بیٹھو گے۔۱۹باب ۲۹ متی۔اگر کہو مسیحی بشارات اور پطرس کی خوشخبری مشروط تھی۔بدوں شرط نہیں۔تو ہم کہتے ہیں۔مسیحی اور پطرسی کی شرط کا تو ذکر انجیل میں نہیں۔قرآنی بشارات کا خود قرآن میں ذکر ہے۔دیکھو آیت۔(زمر:۶۶) مطلب یہ ہے کہ اگر خاتمہ ایمان پر ہوا تو تیرے گناہ معاف ہیں۔اور سنو!  کے معنے آپ لوگوں کو معلوم نہیں۔اس آیت شریف کی تفسیر کیلئے قرآن ہی عمدہ تفسیر ہے اور وہ آیت مفسرہ آیت ۔(الم نشرح: ۲،۳) ہے۔فتح سے مراد ہے۔دل پر علوم باری اور آسمانی بادشاہت کے اَسرار کا کھولنا اور جب وہ کھلتے ہیں تو توبہ اور خشیت اور خوف الہٰی پیدا ہوتا ہے۔جس کے باعث گناہ نہیں رہتے۔انسان نئی زندگی پاتا ہے۔نیا جلال حاصل کرتا ہے۔ایک اور جواب سنئے۔مسیح حواریوں کو فرماتے ہیں۔جن کو تم بخشو۔ان کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔اور جنہیں تم نہ بخشو گے۔نہ بخشے جائیں گے۔یوحنا ۲۰ باب ۲۳۔بھلا جہاں مچھوں اور ٹوریوں کو گناہ بخشنے کا اختیار ہے۔وہاں باری تعالیٰ کو ایک خاتم الانبیاء کے گناہ بخشنے کا اختیار کچھ تعجّب انگیز اور محلِّ انکار ہے؟ ہرگز نہیں! بیشک اﷲ تعالیٰ نے نبیٔ عرب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کو فتوحات دیں۔ظاہری فتوح فتح مکّہ وغیرہ جس کے ظہور سے بُت پرستی کا استیصال اس شہر سے کیا۔عرب جیسے بُت پرست ملک سے ابد کیلئے ہو گیا۔اور تمام دنیا میں توحیدِ ربوبیت کے علاوہ توحیدِ الوہیت کا شور مچ گیا اور مختلف قبائلِ عرب لُوٹ مار کرتے۔شراب خوری اور جوئے بازی پر فخر بگھارتے۔سراسر اخلاق مجسّم پورے موحّد ہو کر نیک چال پر آ گئے۔اتنی ہدایت پھیلانے سے ہادی کے گناہ معاف نہ ہوئے ہوں؟ بالکل عقل کے خلافہے اور فتوحات باطنی کا حال آگے لکھ چکا ہوں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل طبع دوم صفحہ۱۶۹۔۱۷۰) ٔ ۷ تا ۱۰۔