حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 583 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 583

سکتے تھے۔دیکھو ایّوب وہ جو عورت سے پیدا ہوا کیا ہے کہ صادق ٹھہرے۔۱۵ باب ۱۴ ایّوب پھر مریم جب بگناہ موروثی آدم گنہگار تھی تو مسیحؑ کو کوئی پاک نہیں ٹھہرا سکتا۔کون ہے جو ناپاک سے پاک نکالے۔کوئی نہیں۔ایوب ۱۴ باب ۴۔اور پھر عیسائیوں میں تمام آدمی آدم کے گناہ سے گنہگار ہیں اور آدم کا گناہ عورت سے شروع ہوا۔تو مریم اور اس کا بیٹا کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ پس گنہگار اگر الوہیت سے معزول نہیں تو گنہگار نبوّت اور رسالت سے کیسے معزول ہو سکتا ہے۔اور سنو! کتب مقدّسہ کا محاورہ ہے۔مورثِ اعلیٰ کا نام لے کر قوم کو مخاطب کیا جاتا ہے۔دیکھو یثرون ( یعقوب) موٹا ہوا۔اور اُس نے لات ماری۔تو تُو موٹا ہو گیا۔چربی میں چھپ گیا۔خالق کو چھوڑ دیا۔استثناء ۳۲ باب ۹۔۱۰ یعقوب کو جیسی اُس کی روشیں ہیں۔سزا دیگا۔۱۲ باب ۲ ہو شیع۔یعقوب کو اس کا گناہ اور اسرائیل کو اُس کی خطاجتاؤں۔میکہ ۳ باب ۸۔یہ تو عہد عتیق کا محاورہ سنایا۔اب عہدِ جدید کو سنئے۔اس نے تو حد کر دی ہے سنو! سنو! سنو! مسیحؑ نے ہمیں مول لے کر شریعت سے چھڑایا کہ وہ ہمارے بدلے میں سے لعنت ہوا۔نامہ گلتّیاں ۳ باب ۱۳۔۲۔قرنتی ۵ باب ۲۱۔پس میں کہتا ہوں جب صاحبِ قوم قوم کے گناہ سے گنہگار کہا جاتا ہے۔اور جب قوم کو صاحب قوم کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے۔تو آپ ان آیات میں جن سے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا گنہگار ہونا ثابت کرتے ہیں اس امر کو کیوں فروگزاشت کئے دیتے ہیں بایں ہمہ جن آیات سے آپ لوگ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت الزام قائم کرتے ہیں۔ان میں یقینی طور پر بلحاظ عربی بول چال کے اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔مثلاً سوچو۔آیتمیں ہم کہتے ہیں۔والا واؤ عطف تفسیری کا واؤ ہے۔اور واؤ تفسیری خود قرآن میں موجود ہے۔دیکھو سورۂ رعد۔(رعد:۲) (حجر:۲) (فصل الخطاب حصّہ اوّل طبع دوم صفحہ۱۶۷۔۱۶۸) ۲۳۔  : میں جب یہ آیت پڑھتا ہوں۔یزید یاد