حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 577
کی دلیل پیش کی اور لوگوں کو متوجّہ کیا کہ مجھ سے پہلے کئی رسول ہو چکے ہیں۔خصوصًا بنی اسرائیل میں سے ایک عظیم الشان اپنے مثیل ہونے کی گواہی دے چکا ہے۔ ان کے منہاج پر غور کرو تو میرا صدق کُھل جائے گا۔پھر صحابہ کرامؓ سے بڑھ کر ہم خوش قسمت ہیں۔کہ ہم میں جو ولی اﷲ آیا اس سے پہلے ہزاروں اولیاء اﷲ گزر چکے ہیں۔ان کی کتابیں ہمارے پاس محفوظ ہیں۔تمام دنیا کی رسالتیں کُھل کر ہم تک پہنچ چکی ہیں۔مجوسیوں۔یہودیوں۔نصرانیوں۔ہندؤوں کے پیغمبروں اور ان کے مذہب کی کتابیں مل سکتی ہیں۔پس ایسے وقت میں اگر کوئی تقویٰ سے لبریز دل لے کر غور کرتا تو اس فرستادۂ الہٰی کی شناخت میں اسے کیا مشکل تھی۔آسمان سے نزول کے معنے بھی ایلیاء کی پیشگوئی یوحنا میں پوری ہونے سے حل ہو چکے ہیں۔ملا کی نبی باب ۴ آیت ۵ میں ارشاد ہوتا ہے۔دیکھو۔خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا اور وہ باپ دادا کے دلوں کو بیٹوں کی طرف اور بیٹیوں کے دلوں کوان کے باپ دادوں کی طرف مائل کرے گا۔یہ پیشگوئی ہے۔اس کے پورا ہونے کا حال متی باب ۱۱ آیت ۷ میں پڑھو۔الیاس جو آنے والا تھا۔یہی ہے۔چاہو تو قبول کرو۔انجیل مرقس باب ۹ درس ۱۱۔۱۳ میں یہی مضمون ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۴ صفحہ۱۷۹۔۱۸۰ماہ جولائی ۱۹۱۲ء) :۔یعنی حضرت موسٰی پیشگوئی فرما چکے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۱ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۶۔