حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 576
مرسل من اﷲ کے ماننے میں ذرا بھی اشکال نہ ہوتا۔مگر اپنے خیالات ملکی اور قومی رسوم۔بزرگوں کے عادات کے ماننے میں تو بہت بڑی وسعت سے کام لیتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اس کے احکام کیلئے خدا کے علم اور حکمت کے پیمانہ کو اپنی ہی چھوٹی سی کھو پڑی سے ناپنا چاہتے ہیں۔ہر ایک امام کی شناخت کیلئے یہ عام قاعدہ کافی ہے۔کہ کیا یہ کوئی نئی بات لے کر آیا ؟ اگر اس پر غور کرے تو تعجّب کی بات نہیں ہے جو اﷲ تعالیٰ اصل حقیقت کو اس پر کھول دے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو ہیچ سمجھے اور تکبّر نہ کرے۔ورنہ تکبر کا انجام یہی ہے کہ محروم رہے۔(الحکم ۲۴؍مئی ۱۹۰۱ء صفحہ۱۰۔۱۱) ہمارے سیّد و مولیٰ ہادیٔ کامل محمد مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی رسالت اور نبوّت کو پیش کرتے ہوئے یہی فرمایا اور یہی آپ کو ارشاد ہوا۔میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا ہوں۔جو رسول پہلے آتے رہے ہیں۔ان کے حالات اور تذکرے تمہارے پاس ہیں۔ان پر غور کرو اور سبق سیکھو کہ وہ کیا لائے۔اور لوگوں نے ان پر کیا اعتراض کئے۔کیا باتیں تھیں جن پر عمل درآمد کرنے کی وہ تاکید فرماتے تھے اور کیا امور تھے جن سے نفرت دلاتے تھے۔پھر اگر مجھ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے تو اعتراض کیوں ہے۔کیا تمہیں معلوم نہیں۔ان کے معترضوں کا انجام کیا ہوا تھا۔(الحکم۱۷؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۸) : ان کو کہہ دو کہ میں نے کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا۔نئے رسول کیلئے مشکلات ہوتی ہیں لیکن جس سے پہلے اور رسول اور نواب اور ملوک اور راست باز گزر چکے ہیں اس کو کوئی مشکلات نہیں ہوتیں۔جن ذرائع سے پہلے راست بازوں کو شناخت کیا ہے۔وہی ذریعے اس کی شناخت کیلئے کافی اور حجّت ہیں۔تعلیم میں مقابلہ کرلے۔اس کا چال چلن دیکھ لے۔کہ پہلے راست بازوں جیسا ہے یا نہیں۔دشمن کو دیکھ لے کہ اسی رنگ کے ہیں یا نہیں۔آدمی کو ایک آسان راستہ نظر آتا ہے مگر خدا کے فضل سے مجھے محض اﷲ ہی کے فضل سے اس آیت کے کے بعد راست باز کی شناخت میں کوئی مشکل نہیں پڑی۔(الحکم۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲) شَاھِدٌ کی تنوین واسطے تفخیم و تعظیم کے ہے۔اور لفظ مِثْلِہٖ قابلِ غور ہے… حضرت موسٰیؑ کا قصّہ بتکراروکثرت قرآن میں مذکور ہونا۔اس امر کا اشارہ اور اظہار کرتا ہے کہ قرآن اپنے رسولِ عربیؐ کو مثیلِ موسٰی ثابت کرتا ہے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم طبع دوم صفحہ۲۷) جو لوگ پیچھے آتے ہیں۔وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں۔کیونکہ پہلے لوگوں کے حالات ان تک پہنچ جاتے ہیں۔پس عقلمند ان سے فائدہ اٹھا کر خود ان غلطیوں میں نہیں پڑتے جن میں وہ پڑ کر ہلاک ہوئے بلکہ ان راہوں پر چلتے ہیں۔جن پر اگلے چل کر فائز المرام ہوئے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی صداقت