حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 561 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 561

کہیں منظور ہے اور کہیں نامنظور ہے۔اسی طرح سائنس دانوں کی سپارشیں کہیں منظور ہیں کہیں نامنظور بادشاہوں کے وزراء ،امراء سپہ سالاروں کی سپارشیں کہیں منظور ہیں کہیں نامنظوردعائیں کہیں کامیاب کر کے شکر کے انعامات کا موجب ہوتی ہیں اور کہیں ناکامی سے صبر کے انعامات دلاتی ہیں۔پس اس قاعدہ کے مطابق بعضوں کے حق میں لکھا ہے۔کسی کیلئے سپارش نامنظور ہے اور بعض کے لئے سپارش منظور ہے۔اسی طرح بعض کی سپارش منظور اور بعض کی نامنظور۔سپارش اور گناہ کا یہ تعلق ہے کہ گناہ اخذ کا موجب ہے۔اور سپارش کنندہ کی سپارش اس کے نیک اعمال کے باعث الہٰی عفو (کہما) کو حاصل کر کے ایک قسم کے گنہ گار کیلئے تو کہما کا موجب ہوتی ہے اور سپارش کنندہ کے واسطے باعثِ اعزاز و امتیاز۔شفاعت ایک دعا بلکہ دعا سے بڑھ کر ایک درجہ کی پرارتھنا ہے۔پس اس پر انکار کیا۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ۱۱۰) ایک عیسائی کے اعتراض کہ ’’ انسان کی نجات قیامت کے روز کیونکر ہو گی۔حسنِ عمل سے یا شفاعت شفیع سے یا دونوں سے‘‘ کے جواب میں تحریر فرمایا:۔مخلوق کی نجات کا مدار ایسا تنگ اور محدود نہیں جو پادریوں نے بیان کیا۔کیا خدائی ارادے محدود ہیں؟ کیا اس بے حد ہستی کے کام کسی مخلوق کے خیال اور وہم پر موقوف ہیں؟ بندگانِ خدا کی نجات قیامت کے روز محض باری تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گی! اور صرف اس کے رحم اور غریب نوازی سے ہم نجات پائیں گے! اگر اعمال وغیرہ سے نجات ہے تو فضل کچھ بھی نہیں ناظرین یقین کرو کہ فضل و کرم خداوندی سے نجات ہے !اور یہی فضل و کرم اسلام میں نجات کا باعث ہے ! دیکھو سورۂ دخان۔اس میں اہل جنّت کے انعامات کا ذکر ہوتے ہوتے بتایا ہے۔کہ جنّت میں جانے والے دوزخ سے اﷲ کے فضل سے بچے۔۔(دخان:۵۷،۵۸) اور سورۂ حدید میں ہے۔   (الحدید:۲۲)   (النساء:۷۰،۷۱) قرآن بیان کرتا ہے۔گناہ تین قسم کے ہوتے ہیں۔اوّلؔ شرک۔دومؔ کبائر۔سومؔ صغائر۔شرک کی نسبت قرآن کریم فیصلہ دیتا ہے۔کہ وہ ہرگز بدوں توبہ معاف نہ ہو گا۔اس کی سزا بھگتنی ضرور ہے ( نساء:۱۱۷)انجیل بھی باایں کہ بڑی بشارت اور بشیر ہے۔فرماتی ہے۔متی ۱۲ باب ۳۱۔روح کے خلاف کا کفر معاف نہ ہو گا۔