حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 560 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 560

 : گویا مسیحؑ مر کر خدا کے پاس ہے جہاں ہم بھی مرکر پہنچیں گے۔: یہ بھی ثابت ہوا کہ عیسٰی تمہارے پاس نہیں آئے گا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۰ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۸۷۔  بعض لوگ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے شافع ہونے کا ثبوت قرآن مجید سے طلب کرتے ہیں۔ان کیلئے یہ آیت حجّتِ قویّہ ہے۔ ۔اور جن کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ شفاعت کے مالک نہیں۔ہاں یہ بات صحیح ہے کہ ایک شافع ہے۔جس نے حق کی گواہی دی اور وہ لوگ اسے خوب جانتے ہیں۔یعنی ( سیّدنا محمّد صلی اﷲ علیہ وسلم )۔اسی طرح ایک اور آیت ہے۔پارہ ۵ رکو ع ۹ ؍ ۶ (النساء:۶۵)۔اوراگر ان لوگوں نے اپنی جان پر کوئی ظلم کیا تو وہ تیرے پاس آتے اور اﷲ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کیلئے مغفرت مانگتا۔تو اﷲ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔شفاعت کی حقیقت سمجھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے۔کہ یہ لفظ شفع سے نکلا ہے۔اور مندرجہ ذیل آیت (آلِ عمران:۳۲)آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اتباع انسان کے گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔حضورِ انور کی ذات ستودہ صفات ایک نور ہے۔جو اس نور سے تعلق پیدا کرتا ہے۔اس سے ظلمات دور ہوتی ہیں۔یہ شفاعت ہے۔مجرموں کی جنبہ بازی کا نام شفاعت نہیں جیسا کہ بعض نادانوں نے غلطی سے سمجھا ہے اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۳ صفحہ۱۳۶۔۱۳۷ ماہ مارچ۱۹۱۲ء) ’’ میں اپنے فن طبابت میں دیکھتا ہوں کہ میری کوشش کی سپارش۔میری دی ہوئی دواؤں کی سپارش