حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 506 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 506

: جب ایسے لوگوں کی کثرت ہو کہ ذکرِ توحید کو بُرا سمجھیں تو دعا کرنی چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۷) جو لوگ دعا کے ہتھیار سے کام نہیں لیتے۔وہ بد قسمت ہیں۔امام کی معرفت سے جو لوگ محروم ہیں وہ بھی دراصل دعاؤں سے بے خبر ہیں۔(النمل:۶۳)سے پتہ ملتا ہے کہ اگر یہ لوگ اضطراب سے۔تڑپ سے۔حق طلبی کی نیت سے۔تقویٰ کے ساتھ دعائیں کرتے کہ الہٰی اس زمانہ میں کون شخص تیرا مامور ہے تو میں یقین نہیں کر سکتا کہ انہیں خدا تعالیٰ ضائع کرتا۔میں کبھی کسی مسئلہ و اختلاف سے نہیں گھبرایا کہ میرے پاس دعا کا ہتھیار موجود ہے اور وہ دعا یہ ہے۔ (زمر:۴۷) اور حدیث اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ۔اِنَّکَ تَھْدِیْ مَنْ تَشآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔سچّا تقویٰ حاصل کرنے کیلئے بھی دعاہی ایک عمدہ راہ ہے۔پھر قرآن کریم کا مطالعہ اس میں متقیوں کے صفات اور راست بازوں کے صفات موجود ہیں۔اﷲ تعالیٰ عمل کی توفیق بخشے۔فہم و فراست بخشے۔( بدر ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۱۰) ۴۹۔ : ھزوسے نکلا ہے۔کسی کو خفیف بنانا اور سمجھنا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۷) ۵۰۔