حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 505
اور خواب میں تغیّرات آتے رہتے ہیں تو بالضرور اس کو ماننا پڑتا ہے کہ جسم کی طرح روح بھی تغیّر پذیر ہے۔اور موت صرف تغیرّ اور سلبِ صفات کا نام ہے۔ورنہ جسم کے تغیّر کے بعد بھی جسم کی مٹی تو بدستور رہتی ہے لیکن اس تغیر کی وجہ سے جسم پر موت کالفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۶ صفحہ۲۷۴۔۲۷۵ ماہ جون ۱۹۱۲ء) : قبض کرتا ہے جان کو۔روح کے معنے عربی میں کلام کے ہیں۔(ضمیمہ اخباربدر قادیان ۲۴؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۷) ۴۵۔ لِلّٰہِ : شفاعت پانچ قسم ہے۔۱۔شفاعت بالمحبّ۔مثلاً کسی پیارے نے بات کہہ دی وہ مانی جاتی ہے۔۲۔شفاعت بالوجاہت۔اﷲ کے ہاںبھی بہت سے وجیہہ ہیں۔مگر انکی و جاہت کا دباؤ نہیں ہوتا۔۳۔شفاعت بالعلم خدا کے ہاں بے علمی نہیں۔۴۔شفاعت بلحاظ اکرام و اعزاز مثلاً حاکم جانتا ہے کہ مجرم کو چھوڑنا ہے۔مگر اس چھوڑنے کے ساتھ کسی کا اکرام رکھ لیتا ہے۔۵۔شفاعت بالحمق کہ یونہی بات کہہ دی۔سب قسم کی شفاعتیں اﷲ کے اختیار میں ہیں۔جس کی شفاعت چاہے۔ان سے لے جسے چاہے اعزاز و علم و وجاہت و محبوبیت دیدے۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۹ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۴۶۔ : نفرت کرتے ہیں۔بُرا مناتے ہیں۔انکار کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۷)