حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 2

: ۱۔مُسْتَقِیْمًا۔بالکل سیدھے راہ پر اور سیدھی راہ بتانے والی ۲۔مصدق اور صداقتوں کی اور اپنی صداقتوں کی ۳۔حافظ اس پر عمل کرنے والوں کیلئے شدید کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ سخت مخالفت کے واسطے تیار ہے۔: عملِ صالح کا نتیجہ ہے۔اجرِ حسن : بہت لمبا زمانہ : یہ آیت بتلاتی ہے کہ قوم دجّال کون ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰؍ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۵) ۶۔  : یہ قوم بڑی سائنسدان بن گئی۔ہر بات پر دلیل پیش کرتی ہے۔مگر اپنے مذہب کے متعلق صاف اقرار کرتے ہیں کہ مسیحؑ کے ابنِ خدا ہونے اور تثلیث۔کفّارہ وغیرہ کے واسطے دلیل کوئی نہیں۔قرآن شریف نے پہلے سے پیشگوئی کی ہے کہ یہ ایسا کہیں گے۔اٰ: ان کے باپ دادوں کو بھی علم نہ تھا۔یورپ ایک بُت پرست قوم تھی۔جاہل لوگ تھے۔پرانے بُتوں کے عوض رفتہ رفتہ سلطنتوں کے اور حکاّم کے رُعب میں آ کر یسوع کا بُت پوجنے لگ گئے۔وہ تو خود جاہل تھے ہی۔اور اب ان کی اولاد گلے پڑا ڈھول بجا رہی ہے۔: تمیز واقع ہوئی ہے اس واسطے منصوب ہے۔: منہ سے نکلتی ہے۔دل سے نہیں نکلتی۔دل جانتے ہیں کہ یہ بے دلیل بات ہے صحیح َُ نہیں۔۷۔