حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 1
سُوْرَۃُ الْکَھْفِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔ سورۂ بنی اسرائیل میں زیادہ تر یہود سے خطاب ہے،اور ان کی دو شدید تباہیوں کا ذکر کر کے مسلمانوں کو بھی متنبّہ کیا ہے۔اب اس سورۂ شریف میں زیادہ بحث پہلے عیسائیوں سے کی ہے۔پھر مجوس سے اور درمیان میں کچھ یہود کو بھی خطاب کیا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ فتنۂ دجال سے بچنے کے واسطے ہر جمعہ کو سورۃ کہف کی پہلی دس آیتیں اور پچھلی دس آیتیں پڑھو۔ان آیات کے مطالعہ سے واضح ہو سکتا ہے کہ دجّال کون ہے اور اس کے کیا صفات ہیں اور اس سے بچنے کی کیا راہ ہے۔: کامل جامع کتاب۔لکھی ہوئی۔ایک لشکر جو شبہات کو دور کرے۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف آنحضرت صلی اﷲعلیہ و آلہٖ وسلّم کے وقت میں بصورت کتاب موجودتھا۔: دو معنے ہیں۔۱۔ٹیڑھاپن۔اس کتاب میں کوئی غلط تعلیم نہیں۔۲۔جو ٹیڑھا رہے وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰؍ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۵) ۳ تا ۵۔