حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 466 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 466

ایک بچہ رونے اور ضد کرنے کے وقت ماں کی گود میں چلے جانے یا دودھ پی لینے سے یا تھوڑی سی شیرینی یا کسی تماشے کھیل سے خوش ہو سکتا ہے اور اس کے بہلانے کے واسطے بہت تھوڑی سی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ ایک بچے کی خوشی اور خواہشات کا منزلِ مقصود بہت محدود ہوتا ہے۔مگر جوں جوں وہ ترقی کرتا اور اس کے قویٰ مضبوط ہوتے جاتے ہیں تُوں توں اس کے ارادوں اور خواہشات کا میدان بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔حتّٰی کہ قرآن شریف کی اس آیت (فاطر:۳۸) کا مصداق بن جاتا ہے۔اس دور کا پہلا درجہ اٹھارہ سال کی عمر ہوتی ہے۔اسوقت انسان میں عجیب عجیب قسم کی اُمنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ انسان کے قوٰی بھی مضبوطی اور استویٰ کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کے ارادے بھی بہت وسیع ہو جاتے ہیں۔رسول اکرم ؐ نے ہر نمازی کو جن میں یہ لڑکا بھی داخل ہے طولِ امل اور ہموم و غموم سے پناہ مانگنے کے واسطے حکم دیا ہے۔ایک دوسری حدیث میں آیا ہے۔کہ رسولِ اکرمؐ نے ایک چار کونہ شکل بنائی اور اس کے وسط میں ایک نقطہ بنا کر فرمایا کہ یہ نقطہ انسان ہے اور دائرہ سے مراد اجل ہے۔یعنی انسان کو اجل احاطہ کئے ہوئے ہے پھر انسانی امانی اور آرزوئیں اس سے بھی باہر ہیں۔یہ سچّی بات ہے کہ انسان بڑے بڑے لمبے ارادے کرتا ہے جو سینکڑوں برسوں میں بھی پورے نہیں ہو سکتے مگر اس کی اجل اسے ان ارادوں تک پہنچنے سے پہلے دبا لیتی ہے۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ۵،۶) ۷۱۔ : فردِ جرم لگے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ۲۱۲) ۷۶۔ : وہ بُت مشرکانِ مکّہ کو کچھ مدد نہ دے سکے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ۲۱۲)