حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 444
سُوْرَۃُ فَاطِرٍمَکِّیَّۃٌ ۲۔ اﷲ تعالیٰ جو فرماتا ہے وہ حق ہے۔اﷲ تعالیٰ کی ذات۔صفات۔اسماء کی نسبت ہمیں اتنا ہی علم ہو سکتا ہے۔جتنا وہ خود اپنے انبیاء۔اولیاء کی معرفت بتائے۔پس اﷲ کی ذات و صفات۔ملائکہ۔قبر۔حشر۔دوزخ۔جنّت۔پُل صراط کے متعلق ہمارا علم وہی صحیح ہو سکتا ہے۔جو خود اس نے فرما دیا۔اور اسی حد تک ہمیں ان میں گفتگوکرنے کی اجازت ہے۔: یہ اﷲ نے فرمایا کہ فرشتوں کے پَر ہیں۔ان سے کیا مراد ہے۔یہ اﷲ ہی خوب جانتا ہے۔پھر وہ جنہوں نے فرشتوں کو بجشمِ خود دیکھا۔جس نے کچھ نہیں دیکھا۔اس کا اعتراض بیوقوفی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۸) : صوفیوں نے لکھا ہے۔میں اسکا ذمّہ دار نہیں کہ عروج کے اسباب کا نام اَجْنِحَۃ ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۶ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۴۔