حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 442 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 442

وضع کر سکتا ہے۔اور اپنے کاموں کے نتیجے اپنی آنکھوں کے سامنے بار آور دیکھ سکتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۷۔۲۰۸) نجات کے طالبو! دینِ حق کے خواستگارو! خیالات ایں وآں سے تھوڑی دیر سر کو خالی کر کے ادھر متوجّہ ہو جاؤ۔سوچو۔کیا یہ زبردست پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی۔کیا ایک دنیا پر اس کی صداقت ظاہر نہیں ہو گئی۔تیرہ سو برس ہوئے۔دین کامل۔توحید۔صداقت کے آفتاب نے سر زمینِ عرب میں طلوع کیا۔جس کی روشنی نہ صرف عرب میں بلکہ کل اقطارِ عالم میں پھیلی اور پھیل رہی ہے۔اور جب سے کبھی شرک۔کفر۔بدعت۔بت پرستی۔بطلان کی کالی بدلی اس کے پُر جلال نورانی چہرے کو محجوب نہ کر سکی۔اسی پر کیا بس ہے۔آپ نے بڑے اطمینان۔الہٰی الہام سے۔پُر جلال آواز سے۔بڑے جلسوں اور محفلوں میں تاکیدی الفاظ میں زور میں کہہ دیا۔(بنی اسرائیل:۸۲) پڑھنے والے دیکھ! کیا یہ کلام قادرمطلق علاّم الغیوب کا نہیں؟ کیا انسان کی کمزور زبان اپنے ناقص اور محدود علم سے ایسی پوری ہونے والی سچ اور بالکل سچ خبر دے سکتی ہے؟ نہیں نہیں ! ہرگز نہیں۔یقیناً یقیناً یہ اسی ہمہ قدرت کا کلام ہے جس کا علم کامل غیر محدود ہے س کے دستِ قدرت میں قلبِ انسان کے انقلاب و تقلیب کی باگ ہے۔اور زمانوں اور قوموں کی تبدیل و تغییراسی کے بس میں ہے۔اسی پاک عالم الغیب خدا نے اپنے برگزیدہ عبد مگر رسول کے منہ میں اپنا کلام دیا۔جو اُسی کے بلائے سے بولا اور اُسی کے بتائے سے بتایا۔کیا ہی سچ بولا۔اور کیا ہی ٹھیک بتایا۔فداہ امی و ابی صلی اﷲ علیہ وسلم۔(فصل الخطاب حصّہ دوم ایڈیشن دوم صفحہ۸۷۔۸۸) : یہ ایک پیشگوئی ہے کہ مکّہ میں پھر کبھی ایسی بُت پرستی نہ ہو گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۸) ۵۱۔  : اور اگر میں سُوجھا ہوں تو اس سبب سے کہ وحی بھیجتا ہے مجھ کو۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۵۶)