حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 439 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 439

ہے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْانْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍمَّسْنُوْنٍ وَالْجّآنَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السُّمُوْمِ۔پس اﷲ تعالیٰ کی کسی ایسی مخلوق کا جسے ہم دیکھ نہ سکتے ہوں۔محض اس بنا پر انکار کرنا کہ وہ اگر ہے تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتی۔دانشمندی سے بعید ہے۔خود جنّ کے لفظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ وہ ایک انسانی نظروں سے پوشیدہ مخلوق ہے اس مادہ سے جس قدر الفاظ نکلے ہیں ان میں یہی معنے پائے جاتے ہیں۔مثلاً جنّت۔حنۃ جو انسان کو چھپا کر تلوار کے حملے سے محفوظ رکھتی ہے۔جنین وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں پوشیدہ ہو۔جنون۔عقل کو چھپانے والا مرض۔جنّ کا اطلاق حدیث میں سانپ، کالے کتے،مکھی، چیونٹی، وبائی جرمز، بجلی، کبوتر باز، زقوم، بائیں ہاتھ سے کھانیوالا بال پراگندہ رکھنے والا ،غراب۔ناک یا کان کٹا۔شیر برسردار وغیرہ پر بولا گیا ہے۔جنّ لغت میں بڑے آدمیوں پر بھی بولا گیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے جنّ الناس معظمھم۔شاید بڑے پیسے والے ساہوکاروں کو بھی اسی لئے مہاجن کہتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی یہ لفظ غریب لوگوں کے مقابل ایک گروہ پر بولا گیا ہے۔پہلے فرمایا: ۔(سبا:۳۴) اس سے آگے فرمایا: ۔(سبا:۴۲) سورۃ احقاف رکوع۴ میں ایک گروہ کا ذکر ہے جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے قرآن سننے آئے۔اور پھر اپنی قوم کی طرف واپس پھرے اور کہا۔۔اسی طرح سورۃ جنّ میں جس گروہ کا ذکر ہے مفسرّین نے لکھا ہے کہ وہ نصیبین کے یہودی تھے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۵ صفحہ۲۳۰ مئی ۱۹۱۲ء) ۴۴۔   : دلر ُبا باتیں کرتا ہے۔جو ہمیں اپنی قوم سے کٹوانے