حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 403 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 403

نہیں پہنچے۔پہلے رکوع میں خدا نے ذکر فرمایا ہے کہ بنو قریظہ نے قریشِ مکّہ و دیگر فرقوں کو اُکسایا۔اور نبی کریمؐپر چڑھا لائے۔یہ بنو نضیر کی تحریک تھی جو جلا وطن کئے گئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے مالوں اور گھروں کے وارث نبی کریمؐاور صحابہ کرامؓ قرار پائے اور اس قسم کی کئی اَور فتوحات ہوئیں۔ان تمام اموال کے قبضہ میں آنے کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ازواج النبیؐ کے دل میں خیال آ جاوے۔کہ اب ہماری حیثیت شاہی بیبیوں سی ہونی چاہیئے۔اور اتنی مدّت ہم نے فقر وفاقہ سے گزاری۔اب تو فراخی ہونی ضروری ہے۔اس لئے ان کو اس رکوع میں سمجھایا گیا ہے۔کہ اسی طرح فقر و فاقہ میں گزارہ کرنا ہو گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم ستمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۴) : جس زمین پر تم نہیں چلے۔ارضِ شام۔اس میں پیشگوئی ہے۔کہ شام کا ملک بھی تم فتح کرو گے۔(بدر ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۵صفحہ۶) ۲۹۔  : اوپر جنگ اور اُن میں فتوحات کا ذکر ہے۔اس کے ساتھ ہی دفعتہ یہ ذکر بھی شروع ہو گیا کہ اے نبی اپنی بیویوں کو کہہ دے۔کہ اگر تم دنیوی زیب و زینت اور مال اسباب کی خواہشمند ہو تو آؤ۔میں تمہیں رخصت کردوں۔ان دونوں آیات کا باہم ربط یہ ہے کہ جب فتوحات سے متعلق پیشگوئیوں کی آیات نازل ہوئیں۔تو طبعاًآنحضرتؐ کے اہلِ بیت کے دل میں یہ خیال آ سکتا تھا کہ جب اس قدر فتوحات ہوں گے اور بے شمار مالِ غنیمت آئے گا۔اور قیصر و کسریٰ کے خزانے یہاں مدینہ میں آ جاویں گے تو ہم کو بڑا مال و دولت ہاتھ آئے گا۔اور بڑے عیش و آرام سے زندگی بسر ہو گی۔برخلاف اس کے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلّم کبھی اپنے واسطے کچھ جمع کرنا اور مال و دولت سے دل لگانا گناہ سمجھتے تھے۔اس واسطے ازواج کا دل بھی پہلے سے ہی اس قسم کے خیالات سے پاک کر دیا گیا اور صرف اﷲ اور اس کے رسولؐ کی خاطر وہاں رہنا انہوں نے منظور کیا۔(بدر ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۵صفحہ۶)