حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 35
سردار کے معنی میں بھی آتا ہے اور قَرْن سو برس کو بھی کہتے ہیں۔یہ امر صاحبِ قاموس اللغۃ نے بھی لکھا ہے۔یہ معنی بہ نسبت اورمعنوں کے جو زمانہ کے متعلق اہلِ لُغت نے کئے ہیں۔بہت صحیح ہیں۔کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریمؐنے ایک غلام ( جوان یا لڑکے ) کو کہا تھاعِشْ قَرْنًاتُوایک قرن زندہ رہ تو وہ ایک سو سال زندہ رہا۔اور علی رضی اﷲ عنہ کو بھی ذوالقرنین کہتے ہیں۔کیونکہ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے اِنَّ لَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَ اِنَّکَ لَذُوْقَرْنَیْھَا کہ تو دونوں طرف جنّت کا بڑا بادشاہ ہو گا۔ظاہر میں تو یہ بات اس طرح صادق ہو گئی کہ آپ اپنے عہدِ مبارک میں عراق کے مالک تھے اور دجلہ و فرات و جیحون و سیحون آپ کے تحتِ حکومت تھے۔اور اب بھی مدعیان اتباع مولیٰ مرتضیٰ علیہ السلام ہی اس ملک کے اکثر حصّہ کے مالک و حاکم ہیں۔اور صحیح مسلم میں اس ملک کو جنّت عدن کہا ہے پس ان روایات سے جن کو لُغت والوں نے بیان کیا ہے ذوالقرنین کے معنے وسیع ہو گئے یہاں تک کہ اس امت میں بھی ایک ذوالقرنین گزرا۔اب ہم اپنے عہدِ مبارک میں جو دیکھتے ہیں۔تو اس میں ایک امامِ ہمام اور مہدی آخر الزّمان عیسیٰ دوران کو پاتے ہیں کہ وہ بلحاظ اس معنے قرن کے جس میں سو برس قرن کے معنی لئے گئے ہیں ذوالقرنین ہے۔جیسے ہمارے نقشہ سے ظاہر ہے اور اس قدر دونوں صدیوں کو اس ذوالقرنین نے لیا ہے کہ ایک سعادت مند کو اعتراض کا موقع نہیں رہتا بلکہ حیرت اور یقین ہوتا ہے۔کہ یہ کیسی آیۃ بیّنہ ا ور دلیلِ نیّر اس امام کیلئے ہے۔اور اس ذوالقرنین نے بھی نہایت مستحکم دیوار دعاؤں اور حجج و دلائلِ نیرّہ کی بلکہ یوں کہیں کہ مسئلہ وفاتِ مسیح اور ابطالِ الوہیت مسیحؑ کی بنا دی ہے کہ اب ممکن ہی نہیں۔یا جوج ماجوج ہماری جنّت اسلام پر حملہ کر سکے۔اور کبھی اس میں داخل ہو سکے۔فجزاہ اﷲ احسن الجزاء عن الاسلام والمسلمین۔سعدی نے مال و زر کو بھی سدّ بنایا تھا مگر وہ سدّ کیا سدّ تھی۔جیسے سعدی علیہ الرحمۃ نے کہا ہے ؎ ترا سدّ یا جوج کفر از زراست سنہ پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود و مہدی ۱۸۳۹ء