حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 374 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 374

  : واقعی یہ نہیں معلوم ہو سکتا کہ بارش اس کیلئے مفید ہو گی یا مضر اس سے جو پھل نکلے گا وہ خدا جانے اس کے نصیب ہو گا یا نہیں۔: شقی ہو گا یا سعید۔: سعیدوں والے کام کرے گا یا شقیّوں والے۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ یُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَ یُصْبِحُ کَافِرًا ہمیشہ ایمان پر ثابت رہنے کی دُعا کرتے رہنا چاہیئے۔ایک بزرگ اپنے حالات میں لکھتے ہیں کہ مجھے مباحثات میں یہ زبردست دلیل سُوجھی۔کہ محسوسات سے غیر محسوس اشیاء پر دلیل پکڑنی چاہیئے۔اور اس طرح کئی مباحثے جیتے۔ایک دن چھت پر لیٹے تھے ستاروں پر نظر جا پڑی۔خیال میں آیا یہ ستارے جس قدر مجھے چھوٹے محسوس ہوتے ہیں کیا واقعہ میں بھی اتنے ہی ہیں۔عقل نے جواب دیا نہیں۔جب یہ امر حسّی خلافِ واقعہ نکلا تو میں بہت گھبرایا یہاں تک کہ بارہ سال اسی مخمصے میں رہا۔آخر اﷲ کی طرف رجوع کیا تو اس نے انشراحِ صدر بخشا۔میں تم سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ حق پہچاننے کا یہی ایک معیار ہے کہ خدا تعالیٰ سے تڑپ تڑپ کر دُعا مانگے اور مُتَشَابِہَات ( جن کے معنے اس پر نہیں کُھلے) مُحْکَمات ( جو اس کیلئے صاف ہیں) کی تابع کرے۔اگر پھر بھی سمجھ میں نہ آئے تو حوالہ بخدا کرے اور دعا کرے(آل عمران:۹) اﷲ تعالیٰ ضرور تسلّی کی راہ نکال دے گا۔: یہ کسی کو معلوم نہیں کہ یہ زمین اس کیلئے رَوْضَۃٌ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ ہوگی یا حُفْرَۃٌ مِّنَ النَّار۔یُوں تو ایک بادشاہ کہہ سکتا ہے۔میں یہیں مَروں گا۔اور بعض لوگوں نے اپنی قبریں زندگی میں کھدوائیں اور وہیں مرے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۱،۲۰۲) : اس گھڑی کا علم اﷲ ہی کو ہے اور وہی بادل اتارتا ہے۔آجکل کے علم آب و ہوا والے اس کے متعلق تو کچھ نہ کچھ خبریں اڑا ہی لیتے ہیں ( گو وہ بھی اکثر بے اعتبار ثابت ہوتی ہیں) کہ مِینہ کب برسے گا۔مگر کون دعویٰ کر سکتا ہے۔کہ یہ بارش مفید ہو گی یا اُلٹی ضرررساں۔جیسا کہ آجکل اکثر مقامات پر ہو رہا ہے۔اور بابرکت ہو گی یا خائب و خاسر کرے گی۔