حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 368 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 368

 اے بیٹے نماز کی پابندی کر۔نیک باتوں کا امر کر اور بدی سے روک اور مصیبتوں پر صبر کر یقینا یہ بڑے حوصلہ کی بات ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۶۴) : پہلے عقائد کے بارے میں فرمایا۔اب عملی حصّہ کے متعلق وعظ سناتا ہے۔۱۔جب عقائد صحیحہ ہو گئے ۲۔اعمالِ صالح ہو گئے۔پھر تم نے امر بالمعروف شروع کیا تو لوگوں کی مخالفت پر صبر و استقلال سے کام لو۔اس کے بعد جب تمہیں کامیابی حاصل ہو تو دیکھنا متکبّر نہ ہو جانا۔اسی لئے فرمایا (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۱) : جو مصائب تجھ پر آئیں۔اُن میں صبر کر۔حضرت لقمانؑ نے جب اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ لوگوں کو نیکی کا حکم کر اور بدی سے منع کر تو چونکہ اس حکم کی تعمیل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ نیک نصیحت کرنے والوں اور بدی سے منع کرنے والوں کے لوگ مخالف ہو جایا کرتے ہیں۔اور ان کو دُکھ دیا کرتے ہیں اس واسطے ساتھ ہی ایسے مصائب پر صبر کرنے کی وصیت کی۔آجکل کے صوفیوں میں ایک ملامتی فرقہ کہلاتا ہے جو جان بوجھ کر ایسے کام کرتے ہیں۔جن سے وہ مخلوق کے درمیان قابلِ ملامت ہو جائیں۔مثلاً رمضان شریف میں بغیر عذر کے لوگوں کے سامنے روزہ توڑ دیا۔اور کچھ کھانے پینے لگ گئے اور بعد میں خفیہ طور پر اس کا کفارہ ساٹھ روزے رکھ لیا۔یہ اس واسطے کرتے ہیں کہ خلقت کے درمیان قابلِ تعریف نہ بنیں بلکہ ملامت کئے جائیں۔لیکن یہ ملامتی بننے کا طریق انبیاء و رسل کے خلاف ہے۔جو لوگ احکام الہٰی پر عمل کر کے خلقت کے درمیان آمر بالمعروف و ناہی عن المنکربنتے ہیں۔وہ تو خود بخود ملامتی ہو جاتے ہیں۔(بدر۳۱؍اگست۱۹۰۵ء صفحہ۶) ۱۹۔  اور لوگوں پر اپنی گالیں مت چمکا ( گھمنڈ مت کر) اور زمین پر اِترا کر مت چل۔یقینا اﷲ مغرور ،بَڑائی جتانے والے کو پیار نہیں کرتا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۶۴)