حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 347 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 347

کے مطالب و معانی پر تمہیں اطلاع دینا اور اس کے حقائق و معارف سے بہرہ ور کرنا۔یہ اﷲ تعالیٰ کا کام ہے اور یہ ایک صورت ہے مجاہدہ صحیحہ کی۔(الحکم۲۴؍اپریل۱۹۰۴ء صفحہ۱۲) : جب اﷲ تعالیٰ میں ہو کر انسان مجاہدہ کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنی راہیں اس پر کھول دیتا ہے۔پھر سچے علوم سے معرفت نیکی اور بدی کی پیدا ہوتی ہے اور خدا کی عظمت و جبروت کا علم ہوتا ہے۔اور اس سے سچی خشیت پیدا ہوتی ہے۔(الحکم۳۱؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۷) کتاب اﷲ پر ایمان بھی اﷲ کے فضل اور ملائکہ ہی کی تحریک سے ہوتا ہے۔اﷲ کی کتاب پر عمل درآمد جو سچّے ایمان کا مفہوم اصلی ہے چاہتا ہے محنت اور جہاد۔چنانچہ فرمایا۔۔یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ اور سعی کرتے ہیں۔ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔یہ کیسی سچّی اور صاف بات ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا۔کہ کیوں اختلاف کے وقت انسان مجاہدات سے کام نہیں لیتا۔کیوں ایسے وقت انسان دُبدھا اور تردّد میں پڑتا ہے۔اور جب یہ دیکھتا ہے کہ ایک کچھ فتویٰ دیتا ہے اور دوسرا کچھ تو وہ گھبرا جاتا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔کاش وہ جَاھَدُوْا فِیْنَا کا پابند ہوتا تو اس پر سچائی کی اصل حقیقت کُھل جاتی۔مجاہدہ کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے وہ تقوٰی کی شرط ہے۔تقوٰی کلام اﷲ کیلئے معلّم کا کام دیتا ہے۔(الحکم۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵)