حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 346 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 346

لئے پاک راہ ہے۔میں جب پہلے یہاں آیا۔یہی نکتہ حضرت صاحب سے سُنا کہ صرف محبت کام نہیں آتی۔بلکہ ہم میں ہو کر جہاد کریں اور اس کوشش کے مطابق اپنا عمل در آمد بھی رکھیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۷) قرآن شریف کے حقائق ، قرآن شریف کی صداقتیں اس کی اعلیٰ تعلیم اور معرفت کی باتیں کوئی گورکھ دھندا نہیں ہیں۔جو کسی کو معلوم نہ ہوں۔نہیں۔بلکہ ہر شخص اپنے ظرف اپنے عزم و استقلال اور محنت و مساعی کے موافق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔خود اﷲ تعالیٰ نے اسکا فیصلہ کر دیا ہے۔ جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں یقینا یقینا کھول دیتے ہیں۔یہ بالکل سچّی بات ہے۔مولیٰ کریم تو اس وقت ہر متنفّس کو یہ حقائق اور صداقتیں دکھا دیتا ہے۔جب وہ خدا تعالیٰ میں ہو کر کسی صداقت کے پانے کیلئے اضطراب ظاہر کرتا اور اس کیلئے سچّی تلاش کرتا ہے۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مجاہدہ تو کرتے ہیں۔لیکن وہ مجاہدہ خدا میں ہو کر نہیں کرتے۔بلکہ اپنی تجویز اور عقل سے کوئی بات تراش لیتے ہیں اور جب اس میں ناکام رہتے ہیں تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ ہم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔یہ ان کی اپنی غلطی اور کمزوری ہے اور وہ الزام خدا تعالیٰ اور اس کی پاک کتاب پر رکھتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ قرآن شریف کا علم صرف و نحو کی کتابوں کے رٹنے پر موقوف نہیں ہے۔بدیعؔ و معانیؔ قرآنی علوم و حقائق کیلئے لازمی طور پرپڑھنے ضرور نہیں ہیں۔یا دوسرے علوم کے بغیر قرآن شریف کا سمجھ میں آنا ناممکن نہیں ہے۔یہ خیالی باتیں ہیں۔اس قدر تو میں بے شک مانتا ہوں کہ جس قدر علومِ حقّہ سے انسان واقف ہو گا۔اور ان علوم میں جو قرآن کریم کے خادم ہیں۔دسترس رکھتا ہو گا۔وہ اس کے فہمِ قرآن میں ایک ممدومعاون ہوں گے۔لیکن اسی صورت میں کہ اس کا مجاہدہ مجاہدہ صحیح ہو گا۔مجاہدہ صحیحہ کی تشریح بہت بڑی ہو سکتی ہے۔مگر مختصر طور پر یاد رکھو۔کہ قرآن شریف پڑھو اس لئے کہ اس پر عمل ہو۔ایسی صورت میں اگر تم قرآن شریف کھول کرا س کاعام ترجمہ پڑھتے جاؤ اور شروع سے اخیر تک دیکھتے جاؤ کہ تم کس گروہ میں ہو کیا مُنْعَمْ عَلَیْھِمْ ہو؟یا مغضوب ہو یا ضالیّن ہو؟ اور کیا بننا چاہیئے۔منعم علیھم بننے کیلئے سچّی خواہش اپنے اندر پیدا کرو۔پھر اس کیلئے دعائیں کرو۔جو طریق اﷲ تعالیٰ نے انعام الہٰی کے حصول کے رکھے ہیں۔ان پر چلو اور محض خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے واسطے چلو۔اس طریق پر اگر صرف سورۃ فاتحہ ہی کو پڑھ لو تو میں یقینا کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے نزول کی حقیقت کو تم نے سمجھ لیا اور پھر قرآن شریف